چین کے ساتھ ویکسین تعاون لائیو سٹاک برآمدات کے فروغ میں اہم سنگ میل

Spread the love

اسلام آباد۔21مئی (اے بی سی):پاکستان کے حیوانی ویکسین کے شعبے میں چین کے ساتھ حالیہ تعاون سے بیماریوں پر قابو پانے کی کوششوں کو تقویت ملنے اور ملک کی لائیو سٹاک برآمدات میں اضافے کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے جس سے زرعی شعبے کے اہم ستونوں میں شامل لائیو سٹاک سیکٹر کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔سندھ لائیو سٹاک اینڈ فشریز ڈیپارٹمنٹ نے چین کی کمپنی لوئیانگ ماڈرن بائیولوجی گروپ کے ساتھ حیوانی ویکسین کی فراہمی کے لئے ایک مشترکہ منصوبے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں جس میں منہ اور کھر کی بیماری (فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز/ایف ایم ڈی) کی ویکسین بھی شامل ہے۔ اس معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور جانوروں کے ٹریس ایبلٹی نظام کی تیاری بھی شامل ہے جسے ماہرین لائیو سٹاک شعبے کی جدیدکاری کے لئے اہم قرار دے رہے ہیں۔

ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے حبیب بینک لمیٹڈ زرعی سروسز پاکستان کے ڈیری اور لائیو سٹاک منیجر ڈاکٹر عمیر نواز نے کہا کہ ایف ایم ڈی کے خلاف مؤثر ویکسینیشن پاکستان کی لائیو اسٹاک برآمدات کے امکانات بہتر بنانے کے لئے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے بہتر انتظام اور ویکسینیشن کے دائرہ کار میں توسیع سے لائیو اسٹاک صحت کے معیار کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے، خاص طور پر دیہی اور چھوٹے فارموں کی سطح پر جہاں غیر ویکسین شدہ جانور سپلائی چین میں شامل ہو جاتے ہیں جس سے بیماریوں پر قابو پانے اور برآمدی تصدیقی تقاضوں میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلسل ویکسینیشن اور مؤثر کولڈ چین نظام پاکستان کو ایف ایم ڈی فری حیثیت کی جانب لے جا سکتا ہے جو عالمی سطح کے اعلیٰ معیار کی منڈیوں تک رسائی کے لئے ضروری ہے۔ڈاکٹر عمیر نواز کے مطابق سرکاری سطح پر ویکسین کی دستیابی، کولڈ چین نظام اور چھوٹے کسانوں میں آگاہی میں مزید بہتری بیماریوں سے بچاؤ کے اقدامات کو مضبوط بنا سکتی ہے اور شعبے کی طویل مدتی ترقی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے ویکسین کی ترسیل اور نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ چھوٹے کسانوں کے لئے کم لاگت ویکسینیشن سہولتوں کی فراہمی کے لئے دیہی علاقوں اور مویشی منڈیوں میں تربیت یافتہ ویٹرنری ماہرین کی تعیناتی ضروری ہے۔ لائیو سٹاک ماہر اور فارم منیجر احمد فراز نے پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو لائیو سٹاک صنعت کے لئے مثبت پیشرفت قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ چین بائیوٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق میں جدید صلاحیتوں کا حامل ہے جبکہ مؤثر ویکسینیشن کے ذریعے بیماریوں کے بہتر انتظام سے پاکستان کی برآمدی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے اور عالمی منڈیوں میں لائیو سٹاک مصنوعات کی مسابقت میں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی بیماریوں سے پاک اور اینٹی بائیوٹک باقیات سے پاک گوشت کی طلب کرتی ہے اور مقامی بیماریوں کی اقسام کی بنیاد پر تیار کردہ ویکسین کو پاکستان کے لئے انتہائی فائدہ مند قرار دیا۔احمد فراز نے کہا کہ پاکستان اس وقت زیادہ تر درآمدی ویکسین پر انحصار کرتا ہے جو مقامی بیماریوں کی نوعیت سے مکمل مطابقت نہیں رکھتیں۔

ان کے مطابق مقامی بیماریوں کی اقسام کے مطابق ویکسین کی تیاری مؤثریت بڑھانے اور بیماریوں کے بہتر انتظام میں مدد دے سکتی ہے۔انہوں نے برآمدی تصدیق کے لئے لائیو سٹاک ٹریس ایبلٹی نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ درآمد کنندہ ممالک جانوروں کی پیدائش، بیماریوں کی تاریخ اور علاج سے متعلق مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہیں۔پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق لائیو سٹاک شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 14.97 فیصد اور زرعی شعبے کی مجموعی قدر میں 63.6 فیصد حصہ ڈالتا ہےجبکہ یہ آٹھ ملین سے زائد دیہی خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی ہے۔

یہ شعبہ گوشت، زندہ جانوروں اور دیگر حیوانی مصنوعات کے ذریعے پاکستان کی برآمدات میں تقریباً 2.9 فیصد حصہ فراہم کرتا ہے۔ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان کی گوشت برآمدات 511 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں۔ شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر ویکسینیشن نظام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بیماریوں پر مؤثر کنٹرول کے اقدامات پاکستان کی عالمی منڈیوں میں برآمدی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button