
اسلام آباد۔21 اپریل (اے بی سی):بین الصوبائی رابطہ کی وزارت نے بڑے شہروں میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے مختلف منصوبے شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جن کی مجوزہ لاگت 5.5 ارب روپے ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اسکردو میں پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کوچنگ سینٹر میں کھیلوں کی سہولیات کی تعمیر کیلئے 3.5 ارب روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ تجویز کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں فٹ بال گراؤنڈ، ہاکی ٹرف، مصنوعی ایتھلیٹک ٹریک، ٹینس اور والی بال کورٹ کے ساتھ انتظامی بلاک اور دیگر متعلقہ انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔
وزارت نے گلگت میں لالک جان ہاکی سٹیڈیم میں بھی تعمیراتی کاموں کی منصوبہ بندی کی ہے جس میں فلڈ لائٹس کی تنصیب، ریٹیننگ وال کی تعمیر اور باڑ لگانا شامل ہے تاکہ رات کے وقت کھیلوں کی سرگرمیاں ممکن بنائی جا سکیں۔ اس منصوبے کی لاگت 268.776 ملین روپے ہوگی۔لاہور میں منصوبے کے تحت باکسنگ جمنازیم کی تعمیر اور پی ایس بی کوچنگ سینٹر میں سائیکلنگ سہولیات کی اپ گریڈیشن شامل ہے جس کی مجوزہ لاگت 1.4 ارب روپے ہے جبکہ پشاور میں پی ایس بی کوچنگ سینٹر میں کھلاڑیوں کی تربیتی صلاحیت بڑھانے کیلئے اسی نوعیت کے تعمیراتی اور بہتری کے کام تجویز کیے گئے ہیں۔ اس حصے پر 365.241 ملین روپے لاگت آئے گی۔
مالی سال 27۔ 2026کیلئے مجوزہ پی ایس ڈی پی میں سکردو کیلئے 800 ملین روپے، گلگت کیلئے 200 ملین روپے جبکہ لاہور اور پشاور کے منصوبوں کیلئے 150،150 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔دستاویز کے مطابق یہ منصوبے ملک بھر میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع اور جدیدکاری کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہیں، جنہیں مرحلہ وار تعمیر اور ترقیاتی اقدامات کے ذریعے مکمل کیا جائے گا۔
مجوزہ سرمایہ کاری نہ صرف موجودہ سہولیات کو بہتر بنائے گی بلکہ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں نوجوان کھلاڑیوں کیلئے معیاری تربیتی سہولیات تک رسائی فراہم کرکے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔پی ایس ڈی پی 27۔ 2026 کے تحت تجویز کردہ یہ اقدامات کھیلوں کے فروغ، ٹیلنٹ کی نشوونما اور قومی و بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔