
لاہور۔31جنوری (اے پی پی):پاکستان ریلوے ملک کے ریلوے نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن اور بحالی کے لیے چھ بڑے ترقیاتی منصوبوں پر 31 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔اس اقدام سے ریلوے کے حفاظتی معیار میں بہتری آئے گی، آپریشنل کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور مسافروں و فریٹ آپریٹرز کو تیز، بہتر اور زیادہ قابلِ اعتماد سفری سہولیات میسر آئیں گی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق یہ تمام منصوبے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق سکھر ڈویژن میں روہڑی سے خانپور سیکشن پر ٹریک سیفٹی کے کاموں پر 4.87 ارب روپے لاگت آئے گی۔ اسی طرح سکھر ڈویژن میں ٹنڈو آدم سے روہڑی سیکشن پر ٹریک سیفٹی منصوبہ 4.83 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا۔کراچی ڈویژن میں کیماڑی سے حیدرآباد سیکشن پر ضروری ٹریک سیفٹی کاموں پر 5.4 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔اسی طرح ملتان اور لاہور ڈویژنز پر مشتمل خانیوال سے شاہدرہ سیکشن (شورکوٹ، فیصل آباد اور قلعہ شیخوپورہ کے راستے) پر ضروری ٹریک سیفٹی کاموں کی لاگت 6.3 ارب روپے بتائی گئی ہے۔
ملتان ڈویژن میں شیر شاہ سے کندیاں سیکشن پر ٹریک سیفٹی کے کاموں پر 4.9 ارب روپے جبکہ سکھر ڈویژن میں روہڑی سے سبی سیکشن پر یہ کام 5.49 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیے جائیں گے۔ان منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف سفر زیادہ محفوظ اور آرام دہ ہوگا بلکہ بڑے ریلوے سٹیشنز کے درمیان سفر کا دورانیہ بھی نمایاں طور پر کم ہو جائے گا۔دستاویز کے مطابق منصوبوں کی تکمیل کے بعد ٹنڈو آدم سے روہڑی سیکشن پر سفر کا وقت 55 منٹ، روہڑی سے خانپور پر 27 منٹ، کیماڑی سے حیدرآباد پر 25 منٹ، خانوال–شورکوٹ–فیصل آباد–قلعہ شیخوپورہ–شاہدرہ سیکشن پر 40 منٹ، روہڑی سے سبی سیکشن پر 56 منٹ اور شیر شاہ سے کندیاں سیکشن پر 106 منٹ تک کم ہو جائے گا۔