آلو کے بیج کے شعبے کو جدید بنانے کے لئے 4.6 ارب روپے کا منصوبہ تجویز

Spread the love

اسلام آباد۔10 مارچ (اے بی سی):پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) نے پاکستان میں بیج آلو کے شعبے کو جدید بنانے کے لئے 4 ارب 59 کروڑ روپے مالیت کا پانچ سالہ منصوبہ تجویز کیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ’’سیڈ پوٹیٹو پروڈکشن اینڈ سپلائی سینٹر (ایس پی پی ایس سی)‘‘ کے نام سے یہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2031 تک جاری رہے گا۔یہ مرکز نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (این اے آر سی) میں قائم کیا جائے گا اور اسے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار جینومکس اینڈ ایڈوانسڈ بایوٹیکنالوجی کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔

یہ مرکز وائرس سے پاک بیج آلو کی مقامی پیداوار کے لئے ایک قومی مرکز کے طور پر کام کرے گا۔ جدید ٹشو کلچر اور ایروپونکس ٹیکنالوجی کے استعمال سے اس منصوبے کے تحت وائرس فری فاؤنڈیشن سیڈ کی مقامی سطح پر پائیدار پیداوار کی صلاحیت پیدا کی جائے گی۔ اس کے ساتھ جدید کولڈ چین اور بعد از برداشت (پوسٹ ہارویسٹ) انفراسٹرکچر بھی متعارف کرایا جائے گا جس کے ذریعے ذخیرہ اور ترسیل کے دوران بیج کے ضیاع میں 25 سے 30 فیصد تک کمی لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ای آر پی) پر مبنی ڈیجیٹل سرٹیفکیشن، ٹریسی ایبلٹی اور انوینٹری مینجمنٹ کا نظام متعارف کرایا جائے گا جس سے شفافیت، حقیقی وقت میں ریکارڈ کی دستیابی اور معیار کی یقین دہانی ممکن ہو سکے گی۔قومی سطح پر بیج کی سرٹیفکیشن اور ٹریسی ایبلٹی کا نظام بھی اس منصوبے کے تحت مکمل طور پر فعال کیا جائے گا جس سے فیڈرل سیڈ سرٹیفکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (ایف ایس سی اینڈ آر ڈی) کو باضابطہ طور پر سرٹیفکیشن اور نگرانی کے عمل میں شامل کر کے ریگولیٹری نگرانی کو مضبوط بنایا جائے گا۔

اس منصوبے سے کسانوں کو وسیع پیمانے پر فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔ وائرس سے پاک بیج آلو کی مقامی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا جس سے درآمدی بیج پر انحصار کم ہوگا۔ معیاری اور تصدیق شدہ بیج کی بہتر دستیابی کے ذریعے ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد کسانوں کی پیداوار اور منافع میں اضافہ متوقع ہے۔مکمل طور پر قائم اور فعال ہونے کے بعد اس مرکز میں ٹشو کلچر لیبارٹری، سکرین ہاؤسز، کولڈ سٹوریج اور بیج کی پیکنگ یونٹ شامل ہوں گے۔ فیلڈ ملٹی پلکیشن کا عمل ملک بھر میں کیا جائے گا تاکہ بیج کی وسیع پیمانے پر فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔بیج کی افزائش میں اضافہ، کولڈ اسٹوریج کے بہتر استعمال اور تقسیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اہم کردار ادا کرے گی۔

اس کے علاوہ تربیتی پروگراموں کے ذریعے 1600 سے زائد متعلقہ افراد جن میں کسان، تکنیکی ماہرین اور ریگولیٹرز شامل ہیں، کی استعداد کار بڑھائی جائے گی۔یہ منصوبہ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور معلومات کے تبادلے کے لئے جنوبی کوریا کے تجربات اور بہترین طریقوں سے بھی فائدہ اٹھائے گا۔سٹریٹجک طور پر 5 ایز فریم ورک، 13ویں پانچ سالہ منصوبہ، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف اور نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پروگرام کے ساتھ ہم آہنگ یہ منصوبہ برآمدات میں اضافے اور درآمدی متبادل کو فروغ دینے،

ای پاکستان کے تحت ڈیجیٹل سرٹیفکیشن کو تقویت دینے، کولڈ چین انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے اور زرعی پیداوار میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدنی بہتر بنانے میں مدد دے گا۔منصوبے کے نفاذ کے بعد سیڈ پوٹیٹو پروڈکشن اینڈ سپلائی سینٹر پاکستان کے بیج کے نظام کو جدید بنانے، غذائی تحفظ کو مضبوط کرنے، کسانوں کو بااختیار بنانے اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم پیشرفت ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button