ملک بھر میں مٹی کی زرخیزی اور فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے 1.3 ارب روپے کا منصوبہ تیار

Spread the love

اسلام آباد۔9مارچ (اے بی سی):پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) نے ملک بھر میں مٹی کی زرخیزی اور فصلوں کی پیداوار بہتر بنانے کے لیے 1.3 ارب روپے مالیت کے پانچ سالہ کلائمیٹ اسمارٹ منصوبے کے آغاز کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویز کے مطابق ’’قومی بایو فرٹیلائزر اور کمپوسٹنگ پروگرام برائے مٹی کی صحت اور فصلوں کی پیداوار میں بہتری‘‘ کے عنوان سے یہ منصوبہ جولائی 2026 سے جون 2031 تک جاری رہے گا۔یہ منصوبہ قدرتی وسائل، کلائمیٹ اسمارٹ زراعت، مٹی کی زرخیزی اور صحت، مربوط غذائی اجزا کے انتظام، بایو فرٹیلائزرز اور مٹی کی مائیکرو بایالوجی جیسے موضوعاتی شعبوں پر مشتمل ہے۔اس منصوبے پر عمل درآمد نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) اسلام آباد کے لینڈ ریسورسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایل آر آر آئی) کے ذریعے صوبائی تحقیقی اور توسیعی اداروں کے تعاون سے کیا جائے گا۔ پی اے آر سی ایگرو ٹیک کمپنی (پیٹکو)اور نجی شعبے کی بایو فرٹیلائزر کمپنیوں کی شرکت بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے تحت ہوگی۔یہ اقدام فائیو ایزفریم ورک، تیرہویں پانچ سالہ منصوبہ، اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) اور نیشنل ایگریکلچر انوویشن اینڈ گروتھ پروجیکٹ (این اے آئی جی پی) سے ہم آہنگ ہے۔ اس کا مقصد کلائمیٹ اسمارٹ زراعت اور مٹی کی بحالی کے طریقوں کو فروغ دینا، کیمیائی کھادوں پر انحصار کم کرنا اور کسانوں کی استعداد اور غذائی تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔اس پروگرام کے تحت معیاری مقامی بایو فرٹیلائزرز، کمپوسٹ اور نامیاتی اجزا کے استعمال کو کسانوں کی سطح پر فروغ دے کر قومی غذائی تحفظ، مٹی کی صحت اور موسمیاتی لچک میں اضافہ کیا جائے گا۔

یہ منصوبہ قومی سطح پر مربوط، کلائمیٹ اسمارٹ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر مبنی فریم ورک کے ذریعے نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد پاکستان میں پائیدار اور ماحول دوست زرعی نظام کو فروغ دینا ہے۔اہم اہداف میں منتخب پودوں کی نشوونما بڑھانے والے رائزوبیکٹیریا (پی جی پی آر) کی اعلیٰ اقسام کی تصدیق، تحفظ اور قومی کلچر کلیکشن آف پاکستان (این سی سی پی) میں دستاویزی ریکارڈ شامل ہے۔ بایو فرٹیلائزرز اور کمپوسٹ کے لیے قومی معیار اور سرٹیفکیشن نظام بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ مصنوعات کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے اور کسانوں کا اعتماد بڑھایا جا سکے۔کسانوں کو مربوط غذائی اجزا کے انتظام کے معیاری پیکجز اور ان کے استعمال کے رہنما اصول فراہم کیے جائیں گے۔ بایو ان پٹس تک رسائی آسان بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ شراکت داری پر مبنی ترسیلی نظام قائم کیا جائے گا جبکہ مختلف زرعی ماحولیاتی خطوں میں نمائشی پلاٹس قائم کر کے موسمیاتی حالات کے مطابق غذائی اجزا کے انتظامی طریقوں کی جانچ کی جائے گی۔اس منصوبے کے تحت توسیعی اور آگاہی مواد تیار اور تقسیم کیا جائے گا جبکہ سرکاری و نجی شعبوں کے افرادی وسائل کی تربیت کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیت کو بھی مضبوط بنایا جائے گا۔مقامی بایو ان پٹ ٹیکنالوجیز کے فروغ، مٹی کی بحالی اور فصلوں کے معیار میں بہتری کے ذریعے توقع ہے کہ یہ اقدام پائیدار زرعی پیداوار میں اضافہ اور قدرتی وسائل کے طویل مدتی تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button