چینی زرعی ٹیکنالوجی کمپنی کا پاکستان میں بیجوں کی افزائش کی شراکت داریوں میں دلچسپی کا اظہار

Spread the love

اسلام آباد۔28جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ایک دہائی سے زائد عرصے کا تجربہ رکھنے والی ایک چینی زرعی ٹیکنالوجی کمپنی نے پائیدار زرعی ترقی کے لئے بیجوں کی افزائش اور پیداوار پر توجہ کے ساتھ طویل المدتی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی مقامی سرگرمیوں کو وسعت دینے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔انہوئی سن گو ایگری ٹیک کمپنی لمیٹڈ کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے منیجر جن شاؤ نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ کمپنی گزشتہ 12 برس سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور پہلے ہی متعدد مقامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون رکھتی ہے۔

ان کے مطابق ترقی کے اگلے مرحلے میں گہری لوکلائزیشن شامل ہوگی جس میں پاکستان کے اندر بیجوں کی افزائش اور پیداوار مرکزی حیثیت رکھتی ہے جو مستقبل کی ترقی کے لئے نہایت اہم ہے۔جن شاؤ نے کہا کہ کمپنی پاکستان میں بیجوں کے مختلف شعبوں میں سرگرم ہے جن میں ہائبرڈ چاول، مکئی، سورج مکھی، کینولا اور سبزیوں کے بیج شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمپنی بڑے درآمد کنندگان سے لے کر چھوٹی کمپنیوں تک مختلف سائز کے شراکت داروں کے ساتھ کام کرتی ہے اور جہاں تعاون ایمانداری اور طویل المدتی وابستگی پر مبنی ہو، وہاں سب کو یکساں تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی چین کی جدید افزائشی ٹیکنالوجیز متعارف کرا رہی ہے جو مقامی طور پر استعمال ہونے والی پرانی اقسام کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں جس سے کسانوں کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے۔ زیادہ پیداوار سے کسانوں کی آمدن بڑھتی ہے، برآمدات کو فروغ ملتا ہے اور مجموعی زرعی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔جن شاؤ کے مطابق یہ تعاون ایک باہمی فائدہ مند سلسلہ ہے جس میں چینی بیج ٹیکنالوجی پاکستانی پیداوار کو سہارا دیتی ہے جبکہ زرعی برآمدات دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور بہتر بیج اقسام سبزیوں اور دیگر فصلوں کی رسد میں اضافہ کر کے معیارِ زندگی بہتر بنا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مؤثر وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والی زیادہ پیداوار روزمرہ غذائی اشیاء کو صارفین کے لئے زیادہ سستا بھی بنا سکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کینولا کی کاشت اور پراسیسنگ کے ذریعے خوردنی تیل کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے جسے انہوں نے بیجوں کے وسیع تر اقدامات کے ساتھ مختلف مراحل میں جاری تعاون قرار دیا۔

جن شاؤ نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ پاکستان کی پالیسی سمت محض تجارت کے بجائے مقامی صنعتی ترقی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جس کے باعث کمپنی ایسے شراکت داروں کی تلاش میں ہے جو طویل مدت میں مشترکہ سرمایہ کاری اور خطرات کی شراکت کے لئے تیار ہوں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ طویل المدتی منصوبہ بندی چیلنجنگ ہو سکتی ہے کیونکہ کئی کمپنیاں فوری منافع کو ترجیح دیتی ہیں تاہم چین کے تجربے کے مطابق بتدریج اور مستقل ترقی طویل عرصے میں بہتر نتائج دیتی ہے۔

انہوں نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ کمپنی بیجوں کی فراہمی کے لیے مخلوط حکمت عملی اپناتی ہے جس کے تحت کچھ اقسام پاکستان میں اور کچھ چین میں تیار کی جاتی ہیں جو موزونیت اور پختگی پر منحصر ہے۔ پاکستان کے تازہ ترین بیج ضوابط کے تحت کمپنی مقامی پیداوار اور درآمدات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو لوکلائزیشن اور قومی پالیسی سے وابستگی کی عکاسی ہے۔

جن شاؤ نے کہا کہ کمپنی بتدریج توسیع، گہری لوکلائزیشن اور طویل المدتی تعاون پر مرکوز رہے گی کیونکہ وہ پاکستان کے زرعی شعبے میں اپنی موجودگی کو مزید فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی حالیہ پاکستان-چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کو گہرے تعاون کے لئے ایک مثبت آغاز قرار دیا تاہم پائیدار نتائج کے لئے شراکت داروں کے محتاط انتخاب کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button