
اسلام آباد۔27جنوری (اے پی پی):پاکستان پوسٹ کو ملک بھر میں ڈاک خدمات کی جدید کاری اور انہیں عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ایک بڑے اصلاحاتی منصوبے کے تحت جنوری 2027 تک مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارتِ مواصلات نے ڈاکخانوں کی خودکاری کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے لئے کوریا کے برآمدی و درآمدی بینک سے مالی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد پاکستان پوسٹ کے زیادہ تر دستی نظامِ کار کو ایک مکمل ڈیجیٹل اور مربوط نظام میں تبدیل کرنا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ منصوبے کے بنیادی خدوخال میں جدید معلوماتی ٹیکنالوجی کے آلات اور خصوصی سافٹ ویئر کی فراہمی، ڈاک عملے کی جامع تربیت، اور نظام کے آپریشن و دیکھ بھال کی سہولیات شامل ہیں۔ منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان پوسٹ کے تمام شعبوں میں ابتدا سے انتہا تک ڈیجیٹل نظام نافذ ہو جائے گا۔پاکستان پوسٹ کے ایک سینئر عہدیدار نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ ڈیجیٹل اصلاحات ادارے کے بنیادی افعال جن میں ڈاک کی ترسیل و انتظام، مالیاتی خدمات، پارسل کی نگرانی اور اندرونی انتظامی امور شامل ہیں، کو نمایاں طور پر مضبوط بنائیں گی۔ نیا نظام فوری بنیادوں پر ڈیٹا پراسیسنگ کو ممکن بنائے گا، خدمات کی رفتار اور معیار میں بہتری لائے گا اور پورے ڈاک نیٹ ورک میں شفافیت کو فروغ دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پرانے کاغذی طریقۂ کار کی جگہ خودکار نظام متعارف کرانے سے خدمات میں تاخیر کم ہوگی اور انسانی غلطیوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ عہدیدار کے مطابق اس ڈیجیٹل منصوبے سے ای تجارت، مالی شمولیت اور حکومت کی جانب سے عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات میں پاکستان پوسٹ کا کردار مزید وسعت اختیار کرے گا، بالخصوص ان دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں جہاں جدید سہولیات تک رسائی محدود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبے کے تحت ملک بھر کے تمام ڈاک خانوں کو جدید انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے گا جس میں کمپیوٹر نظام، محفوظ رابطہ کاری اور مرکزی ڈیٹا نظام شامل ہوں گے تاکہ حقیقی وقت میں معلومات کا تبادلہ اور لین دین ممکن ہو سکے۔نظامِ کار کی جدید کاری کے ذریعے پاکستان پوسٹ عوامی اعتماد کی بحالی، آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے اور خود کو ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد قومی ادارے کے طور پر دوبارہ متعارف کرانے کا خواہاں ہے، جو شہریوں اور کاروباری طبقے کی بدلتی ضروریات پوری کرتے ہوئے عالمی ڈاک معیارات کے مطابق خدمات انجام دے سکے۔