پنجاب میں موسمِ سرما کی بارشوں سے گندم اور تیل دار اجناس کو فائدہ

Spread the love

لاہور۔30جنوری (اے پی پی):موسمِ سرما کی حالیہ بارشوں سے پنجاب بھر میں ربیع کی فصلوں بالخصوص گندم اور تیل دار اجناس کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے،یہ بارشیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب سالانہ نہری بندشوں کے باعث کسانوں کو سطحی پانی کی کمی کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق زرعی اور آبپاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بارشوں سے مٹی میں نمی بہتر ہوگی اور اس اہم مرحلے پر فصلوں کی صحت مند بڑھوتری میں مدد ملے گی۔ پنجاب میں 16.5 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت کی گئی گندم سے رواں سال تقریباً 20 ملین ٹن پیداوار متوقع ہے۔ اس کے علاوہ تیل دار اجناس، جن میں ریپ سیڈ، سرسوں اور سورج مکھی شامل ہیں، جبکہ دالوں میں چنا بھی وسیع رقبے پر کاشت کیا گیا ہے،آبپاشی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی آر آئی) پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے کہا کہ “یہ بارشیں اوسطاً مصنوعی آبپاشی کی ضرورت کو کم کر دیتی ہیں۔ کسی علاقے میں تین سے چار ملی میٹر بارش ایک آبپاشی کی لاگت بچا سکتی ہے۔

ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارانی علاقوں میں گندم کے کاشتکاروں کے لیے موسمِ سرما کی بارشیں نعمت سمجھی جاتی ہیں کیونکہ ان کا براہِ راست تعلق قومی غذائی رسد سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تھل کے اضلاع، جن میں میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، خوشاب، سرگودھا اور جھنگ شامل ہیں، میں حالیہ بارشوں نے خشک زرعی نظام میں نئی جان ڈال دی ہے۔انہوں نے کہا کہ “پنجاب کے نہری کمانڈ والے علاقوں میں بھی طویل خشک دور کے بعد بارشیں زرعی پانی کی دستیابی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ڈاکٹر سیال کے مطابق پوٹھوہار کے خطے میں جنوری اور فروری کے دوران دو سے تین بار بارشیں اچھی پیداوار کے لیے نہایت ضروری سمجھی جاتی ہیں۔ خشک حالات کے ساتھ ساتھ پنجاب میں تربیلا اور منگلا کمانڈ کے تحت 21 بڑی نہریں 26 دسمبر سے بند ہیں، جس کے باعث زراعت کے لیے پانی کی دستیابی نمایاں طور پر کم ہوگئی ہے۔

زرعی ماہرین موسمِ سرما کی بارشوں کو ربیع کی فصلوں، خصوصاً گندم کے لیے ٹانک قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ درجہ حرارت میں کمی لاتی ہیں اور قدرتی غذائی اجزا فراہم کرتی ہیں، جس سے مجموعی پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ پنجاب محکمہ زراعت کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر انجم علی بٹّر نے کہا کہ “بارشوں سے اسموگ میں کمی آتی ہے، جس سے پودوں میں ضیائی تالیف (فوٹوسنتھیسز) بہتر ہوتی ہے کیونکہ وہ ماحولیاتی دباؤ ختم ہوجاتا ہے جو توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو میں انہوں نے وضاحت کی کہ نومبر اور دسمبر کے دوران پنجاب میں اسموگ کے حالات نے سورج کی روشنی روک کر اور میٹابولک عمل میں خلل ڈال کر پودوں کے خلیات کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں ضیائی تالیف کی شرح اور پودوں کی بڑھوتری میں نمایاں کمی آئی۔

ڈاکٹر بٹّر نے کہا کہ بارشیں قدرتی نائٹروجن کھاد میں بھی اضافہ کرتی ہیں، کیونکہ فضا میں بننے والی نائٹروجن آکسائیڈز—جو اکثر آسمانی بجلی کے باعث بنتی ہیں—گھل کر مٹی میں نائٹریٹس اور امونیم کی صورت میں جمع ہوجاتی ہیں، جو پودوں کے لیے آسانی سے قابلِ جذب ہوتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ “یہ عمل گندم اور دیگر فصلوں کے لیے کیمیائی کھادوں کی ضرورت کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جس سے کسانوں کے پیداواری اخراجات میں کمی آتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گندم کی کاشت کے لیے ٹھنڈا موسم اور معتدل بارش موزوں ہوتی ہے۔

گندم کی نشوونما کے لیے مثالی موسمِ سرما کا درجہ حرارت 10 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ فصل کی تکمیل کے لیے گرمیوں میں 21 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ مناسب سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ موافق موسمی حالات کے باعث پنجاب میں گندم کی فصل اس وقت تسلی بخش انداز میں بڑھ رہی ہے، جس سے شاندار پیداوار کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button