ایگریکلچرل یونیورسٹی آفیسرز ایسوسی ایشن کی شدید الفاظ میں مذمت

صوبائی وزیر کے ساتھ غیر سیاسی اور غیر شائستہ رویہ قابلِ افسوس و قابلِ مذمت قرار

Spread the love

ایگریکلچرل یونیورسٹی آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر نعیم خان اور جملہ ممبران نے صوبائی وزیر مینا خان آفریدی کے ساتھ روا رکھے گئے غیر سیاسی، غیر مناسب اور غیر شائستہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منتخب عوامی نمائندے اور قابل قدر صوبائی وزیر کے ساتھ ایسا طرزِ عمل نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ ادارہ جاتی وقار اور باہمی احترام کے اصولوں کو بھی مجروح کرتا ہے۔

ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اپنے بیان میں کہا کہ سیاست برداشت، رواداری اور مثبت مکالمے کی علامت ہوتی ہیں، جہاں اختلافِ رائے کو بھی مہذب اور شائستہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا گیا کہ صوبائی وزیر مینا خان آفریدی نے ہمیشہ جامعات اور تحقیق کے فروغ کے لئے مثبت کردار ادا کیا ہے، ایسے میں ان کے ساتھ غیر سیاسی رویہ افسوسناک ہے اور اس کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔ ایگریکلچرل یونیورسٹی آفیسرز ایسوسی ایشن اس امر پر زور دیتی ہے کہ تمام سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو تحمل، بردباری اور ادارہ جاتی آداب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے معاملات حل کرنے چاہئیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر نعیم خان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اپس میں ایک دوسری کے ساتھ تعاون قوموں کی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم سب ایک ہی وطن کے باشندے ہیں اور ایک ہی جسم کے مختلف حصوں کی مانند ہیں۔ اگر جسم کا ایک حصہ تکلیف میں ہو تو پورا جسم بے چین ہو جاتا ہے، اسی طرح اگر معاشرے کے کسی ایک حصے میں نفرت، تعصب یا دوری پیدا ہو تو اس کا اثر سب پر پڑتا ہے، کبھی آپ یہاں آئیں گے اور کبھی ہمیں وہاں جانا ہوگا، اس لئے ایک دوسرے کے احترام، عزت اور وقار کو ہر حال میں مقدم رکھنا ناگزیر ہے۔ باہمی اختلافات کو نفرت یا ضد کی بنیاد پر نہیں بلکہ مکالمے، برداشت اور سمجھ بوجھ کے ذریعے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ بھائی چارہ، رواداری اور باہمی تعاون ہی وہ اقدار ہیں جو ہمیں مضبوط اور متحد بناتی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ آپس میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں اور دوریوں کو ختم کیا جائے، کیونکہ فاصلے بڑھانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید پیچیدگیاں جنم لیتی ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے قریب آئیں، مثبت سوچ اپنائیں اور ذاتی یا علاقائی مفادات کے بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں۔ اتحاد، احترام اور بھائی چارے کے ذریعے ہی ہم ایک مضبوط اور ایک باوقار معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں اختلاف رائے ہو مگر نفرت نہ ہو، اور تنوع ہو مگر تقسیم نہیں۔
آخر میں ایسوسی ایشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ آئینی و جمہوری اقدار اور باہمی احترام کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button