
اسلام آباد۔26جنوری (اے پی پی):سال 2023 سے 2025 کے دوران پاکستان کی 48 جیلوں میں تقریباً 1,900 قیدیوں کو تعلیمی خواندگی پروگرامز میں شامل کیا گیا۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ خواندگی اقدام جیل اصلاحات کے وسیع تر عمل کا حصہ ہے، جس کا مقصد قیدیوں کی بحالی اور معاشرتی شمولیت کو فروغ دینا ہے۔یہ پروگرام ناخواندہ قیدیوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے پر مرکوز ہے تاکہ وہ پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں، جو رہائی کے بعد باعزت اور مفید زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے۔
خواندگی پروگرام کے اگلے مرحلے کا آغاز 2026 میں ملک بھر کی تمام جیلوں میں کیا جائے گا، جس سے اس کا دائرہ کار قومی سطح پر وسیع ہو جائے گا اور تعلیم کو جیل انتظامیہ کا مستقل حصہ بنایا جائے گا۔تعلیمی اقدامات کے ساتھ ساتھ، جیلوں میں منشیات کے عادی قیدیوں کی مدد کے لیے منشیات بحالی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز کا مقصد علاج، مشاورت اور منشیات کے عادی قیدیوں کی بتدریج معاشرے میں دوبارہ شمولیت کو ممکن بنانا ہے۔جیل اصلاحات کو انسانی حقوق اور بحالی کے عمل سے جوڑنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ تعلیم اور صحت پر مبنی اقدامات نہ صرف دوبارہ جرائم کے امکانات کو کم کرتے ہیں بلکہ قیدیوں کے کامیاب معاشرتی انضمام کے امکانات بھی بہتر بناتے ہیں۔