
اسلام آباد، 25 جنوری (اے پی پی): سندھ حکومت نے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ (SSEP) کے تحت صوبے بھر میں گھریلو صارفین میں 170,383 سولر ہوم سسٹمز تقسیم کر دیے ہیں، جو قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کی ایک اہم کوشش ہے۔
ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب دستاویزات کے مطابق، یہ منصوبہ سرکاری عمارتوں پر سولر سسٹمز کی تنصیب اور سندھ میں 200,000 گھروں کو سولر ہوم سسٹمز فراہم کرنے کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بجلی کی فراہمی محدود یا غیر مستحکم ہے۔
یہ منصوبہ نومبر 2018 میں ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنیک) سے منظور ہوا تھا، جس کا مقصد صاف اور پائیدار سولر توانائی کے استعمال کو فروغ دے کر صوبے میں توانائی کے خلا کو کم کرنا ہے۔
ابتدائی طور پر سولر کٹس کی تقسیم کی آخری تاریخ 30 ستمبر 2023 مقرر کی گئی تھی، تاہم انتظامی اور لاجسٹک مسائل کے باعث اس میں توسیع کرتے ہوئے نئی ڈیڈ لائن 31 جولائی 2025 مقرر کی گئی تاکہ مستحقین تک بروقت ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔
200,000 سولر کٹس کے مجموعی ہدف میں سے اب تک 170,383 کٹس تقسیم کی جا چکی ہیں۔ یہ کٹس بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے اہل گھرانوں کو فراہم کی گئیں، جن میں صوبے بھر کے کم آمدنی والے خاندانوں کو ترجیح دی گئی۔
سندھ حکومت نے اب باقی ماندہ 30,000 سولر کٹس کی تقسیم پر توجہ مرکوز کر لی ہے، جو دیہی اور پسماندہ علاقوں میں فراہم کی جائیں گی۔ حکام کے مطابق دور دراز علاقوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، جہاں روایتی بجلی تک رسائی اب بھی محدود ہے۔
یہ منصوبہ مقامی آبادی پر نمایاں مثبت اثرات مرتب کر رہا ہے، کیونکہ سولر توانائی خصوصاً دیہی علاقوں میں بجلی کا ایک قابلِ اعتماد اور صاف متبادل فراہم کرتی ہے۔ توانائی تک رسائی میں بہتری کے ساتھ ساتھ یہ اقدام حکومت کے ماحولیاتی استحکام کے اہداف کو بھی تقویت دیتا ہے، کیونکہ اس سے فوسل فیول پر انحصار کم ہوتا ہے۔
آنے والے مہینوں میں باقی کٹس کی تقسیم کے بعد سندھ سولر انرجی پروجیکٹ سے توقع ہے کہ وہ صوبے بھر میں توانائی تک رسائی اور پائیداری کو مزید مضبوط بنائے گا اور دور دراز و محروم علاقوں کے ہزاروں گھرانوں کو اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔