پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری 5جی سروس کے آغاز کے لیے تیار

Spread the love

لاہور۔5فروری (اے پی پی):پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی موبائل فون انڈسٹری رواں سال کے وسط تک متوقع 5جی سروس کے اجرا سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے، کیونکہ مقامی اور بین الاقوامی برانڈز کے مینوفیکچررز ہارڈویئر اور سافٹ ویئر دونوں سطحوں پر اپنی تیاریوں کو تیز کر رہے ہیں۔گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی موبائل فون انڈسٹری جنوبی ایشیا میں ایک کامیاب مثال بن کر ابھری ہے، جہاں اس وقت 30 سے زائد مقامی اسمبلی یونٹس سالانہ تقریباً تین کروڑ ہینڈ سیٹس تیار کر رہے ہیں۔

انووی ٹیلی کام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ذیشان مینور نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں میں نمایاں بہتری آئی ہے اور بالخصوص بڑی کمپنیوں نے اپنی ٹیکنالوجی روڈ میپس کو نئی نسل کی ٹیکنالوجیز کے مطابق ہم آہنگ کر لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ 5جی کی تیاری پورے ماحولیاتی نظام کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

“اگرچہ ہینڈ سیٹ بنانے والے کافی حد تک تیار ہیں، لیکن 5جی کے مکمل فوائد بروقت اسپیکٹرم الاٹمنٹ، مرحلہ وار نیٹ ورک رول آؤٹ اور صارفین کی استطاعت پر منحصر ہوں گے۔ جب یہ تمام عوامل ہم آہنگ ہوں گے تو پاکستان بالخصوص موبائل فون سیکٹر میں 5جی سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے گا۔”ذیشان نے بتایا کہ پاکستان میں تیار یا فروخت ہونے والے کئی اسمارٹ فونز پہلے ہی ان اہم 5جی فریکوئنسی بینڈز کو سپورٹ کرتے ہیں جنہیں مقامی طور پر متعارف کرائے جانے کا امکان ہے۔ تاہم یہ ڈیوائسز زیادہ تر درمیانے اور اعلیٰ قیمت کے طبقے میں دستیاب ہیں، جن کی قیمت تقریباً 75 ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔

ان کے مطابق 5جی سے ہم آہنگ ہینڈ سیٹس کی طلب فوری طور پر تیزی سے نہیں بڑھے گی بلکہ بتدریج اضافہ ہوگا۔ ابتدائی طور پر لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں صارفین اس ٹیکنالوجی کو اپنائیں گے، جہاں سب سے پہلے 5جی کوریج متعارف کرائے جانے کی توقع ہے۔انہوں نے کہا کہ جب صارفین تیز رفتار انٹرنیٹ اور کم لیٹنسی کا عملی تجربہ کریں گے اور سستے 5جی فونز اور مالی سہولیات دستیاب ہوں گی تو استعمال میں مزید اضافہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی نوجوان اور ڈیجیٹل رجحان رکھنے والی آبادی طویل مدت میں اس شعبے کی مضبوط طلب کو یقینی بنائے گی، تاہم اس کا پھیلاؤ مرحلہ وار ہوگا۔پرانے نیٹ ورکس سے منتقلی کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ صرف سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کے ذریعے 5جی فعال نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے مخصوص ہارڈویئر، بشمول 5جی چِپ سیٹس، اینٹینا اور آر ایف کمپوننٹس درکار ہوتے ہیں۔

انہوں نےویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مینوفیکچررز ایک طرف نئے یا اپ گریڈ شدہ 5جی ماڈلز متعارف کرائیں گے جبکہ دوسری جانب قیمت کے لحاظ سے حساس صارفین کے لیے 4جی ڈیوائسز بھی فراہم کرتے رہیں گے۔ یہ د ہری حکمت عملی منتقلی کے دوران صارفین کو زیادہ انتخاب اور شمولیت فراہم کرے گی، جبکہ پیداوار کی مقدار نیٹ ورک رول آؤٹ اور مارکیٹ کی طلب کے مطابق رکھی جائے گی۔ ذیشان مینور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 5جی کے وسیع پیمانے پر استعمال کا انحصار صرف ہینڈ سیٹس کی دستیابی پر نہیں بلکہ سپیکٹرم تیاری، رول آؤٹ فریم ورک اور واضح ریگولیٹری پالیسیوں پر بھی ہے، اور ان شعبوں میں ہم آہنگی ہموار منتقلی اور طویل مدتی استحکام کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5جی صلاحیت کے حامل ڈیوائسز کی مقامی پیداوار پاکستان کو علاقائی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں میں مسابقتی برتری دے سکتی ہے، جہاں 5جی پہلے ہی متعارف ہو چکا ہے۔ معیاری معیار، سرٹیفکیشن اور لاگت میں مسابقت کے ساتھ پاکستان عالمی سپلائی چین میں اپنی پوزیشن مضبوط بنا سکتا ہے۔پاکستان موبائل فون مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین میاں عبد الرحمن نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ابتدائی مرحلے میں صرف 20 سے 30 فیصد مینوفیکچررز کو براہ راست فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں 5جی سے ہم آہنگ ہینڈ سیٹس مارکیٹ کے تقریباً 20 فیصد حصے پر مشتمل ہوں گے، جو وقت کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔ ان کے مطابق 5جی فونز کی قیمت موجودہ ماڈلز کے مقابلے میں 5 ہزار سے 15 ہزار روپے تک زیادہ ہو سکتی ہے، جبکہ بعض کیسز میں یہ فرق 20 ہزار سے 30 ہزار روپے تک بھی ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button