چینی ہائبرڈ چاول اور کینولا اقسام سے پیداوار میں اضافہ، دیہی آمدن میں بہتری

Spread the love

اسلام آباد۔10فروری (اے پی پی):چینی زرعی ٹیکنالوجیز پاکستان کے زرعی منظرنامے کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہیں جس کے نتیجے میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ، بعد از برداشت نقصانات میں کمی اور دیہی آبادی کے لیے آمدن کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ووہان چنگفا ہیشینگ ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ کمپنی کے کنٹری ڈائریکٹر ژو شو شینگ نے کہا کہ ابتدائی بڑی کامیابی ہائبرڈ چاول کے ذریعے حاصل ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے ساتویں بڑے چاول برآمد کنندہ سے ترقی کر کے چوتھے نمبر پر آ چکا ہے اور اب تیسرے نمبر کے قریب پہنچ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2010 میں پاکستان آمد کے بعد سے انہوں نے ہائبرڈ چاول کی کاشت کے فروغ کی نگرانی کی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی بدولت فی ایکڑ اوسط پیداوار تقریباً 50 سے 60 من سے بڑھ کر 90 سے 100 من تک پہنچ گئی ہے،

جبکہ بعض کاشتکار اس سے بھی زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ژو کے مطابق ہائبرڈ چاول نے نہ صرف برآمدات کو مضبوط کیا بلکہ بیجوں کی فراہمی، زرعی ادویات کی مارکیٹنگ، کاشت، پراسیسنگ اور بیرون ملک فروخت جیسے شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تعاون کا محور پیداوار کے ساتھ ساتھ معیار کی بہتری ہوگا تاکہ چینی اقسام کے ذریعے بہتر قیمت حاصل کر کے پاکستانی برآمد کنندگان کو اعلیٰ قدر والی منڈیوں تک رسائی دی جا سکے۔

چاول کے ساتھ ساتھ انہوں نے خوردنی تیل کو ایک بڑا قومی چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے اور سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تقریباً ایک دہائی کی مشترکہ تحقیق کے بعد پہلی ہائبرڈ کینولا قسم 2019 میں پاکستان میں رجسٹر کی گئی، جبکہ 2025 میں اس منصوبے کو باضابطہ طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شامل کر لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ کینولا زیادہ پیداوار اور بہتر تیل کی مقدار فراہم کرتی ہے جبکہ کم کھاد اور کیمیائی ادویات کی ضرورت پڑتی ہے، جس سے کسانوں، ماحول اور زمین کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منصوبے کا ایک اہم حصہ چھوٹے اور مائیکرو آئل ایکسٹریکشن یونٹس کا قیام ہے، جن کی مدد سے دیہات میں ہی کینولا سے تیل نکال کر قریبی آبادی کو سستا اور معیاری خوردنی تیل فراہم کیا جا سکتا ہے۔اس ماڈل کے تحت خاندان بیک وقت فصل اگا کر اس کی پراسیسنگ بھی کر سکتے ہیں، خواتین تیل نکالنے والی مشینیں چلا سکتی ہیں، تیل فروخت کر سکتی ہیں اور پروٹین سے بھرپور ضمنی مصنوعات مویشیوں کے چارے کے طور پر استعمال کر کے گھریلو آمدن میں براہِ راست اضافہ کر سکتی ہیں۔

ژو نے بتایا کہ ان کی کمپنی نے کم لاگت ہارویسٹنگ مشینری متعارف کرائی ہے تاکہ کٹائی کے بعد کینولا کے نقصانات کم کیے جا سکیں، جو محدود مشینری کے باعث 30 سے 40 فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ چینی تجربے کی روشنی میں جہاں خصوصی مشینری سے یہ نقصان 5 سے 10 فیصد تک محدود ہو جاتا ہے، پاکستانی کسان بھی نئی مشینری سے مؤثر پیداوار اور آمدن میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چینی کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات دیکھ رہی ہیں، خصوصاً جدید ہارویسٹنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے جو کاروباری مواقع بڑھانے کے ساتھ کسانوں کو فصلوں کے نقصانات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ژو نے مزید کہا کہ چین میں درآمد شدہ زرعی مصنوعات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے اور پاکستان کا موسم اور مٹی ایسی فصلوں، مثلاً مونگ پھلی اور تل، کی کاشت کے لیے موزوں ہیں، بشرطیکہ کسان پیداوار اور معیار بہتر بنائیں۔انہوں نے کہا کہ چین میں زرعی اراضی کم ہونے اور کھپت بڑھنے کے باعث بیرون ملک زرعی مصنوعات کی طلب میں مسلسل اضافہ متوقع ہے، جس سے پاکستانی کاشتکاروں کے لیے طویل مدتی مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان پیداوار اور معیار میں بہتری لائے تو اس کی مصنوعات اس منڈی میں مسابقتی بن سکتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ زراعت پاکستان کی معاشی ترقی کا بنیادی ستون ہے اور بہتر بیج، مشینری، پراسیسنگ اور مارکیٹ روابط کے امتزاج سے چین پاکستان تعاون کسانوں کو زیادہ پیداوار اور بہتر معیارِ زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button