
اسلام آباد۔23فروری (اے بی سی):وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی نے لیبر مائیگریشن اور روزگار کے شعبوں میں شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط بنانے کیلئے لیبر مارکیٹ ریسرچ سیل کے قیام کی تجویز پیش کر دی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ایل ایم آر سی کو ایک مرکزی، محفوظ اور قابلِ توسیع آئی ٹی پر مبنی لیبر مارکیٹ انفارمیشن اینڈ اینالیٹکس ہب کے طور پر قائم کیا جائے گا، جس کیلئے جولائی 2026 سے جون 2028 تک دو سالہ مدت کیلئے 425 ملین روپے کا تخمینہ بجٹ رکھا گیا ہے۔
اس منصوبے کی اسپانسر وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و انسانی وسائل ترقی ہوگی جبکہ اس پر عملدرآمد وزارت اور اس کے ذیلی ادارے کریں گے، جن میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BE&OE)، اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن (OEC) اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (OPF) شامل ہیں۔دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں لیبر مائیگریشن اور روزگار کا نظام ایک پیچیدہ ماحولیاتی ڈھانچے کے تحت کام کرتا ہے، جس میں وفاقی وزارتیں، منسلک محکمے، صوبائی ادارے، ریگولیٹری باڈیز، مالیاتی ادارے، نجی شعبہ اور بین الاقوامی تنظیمیں شامل ہیں۔
اہم سرکاری شراکت داروں میں وزارتِ اوورسیز پاکستانیز، بی ای اینڈ او ای، او ای سی، او پی ایف، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس (DGIP)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP)، پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS)، نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) اور صوبائی ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹیز (TEVTAs) شامل ہیں۔
اس ماحولیاتی نظام میں ایل ایم آر سی ایک آپریشنل ادارے کے بجائے مرکزی تجزیاتی اور انٹیلی جنس پرت کے طور پر کام کرے گا۔ یہ مختلف اداروں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو یکجا اور تجزیہ کر کے منتشر معلومات کو مربوط اور پالیسی سے متعلق لیبر مارکیٹ انٹیلی جنس میں تبدیل کرے گا۔مجوزہ ڈھانچے کے تحت ایل ایم آر سی امیگریشن اور بیرونِ ملک روزگار کا ڈیٹا، معاشی و لیبر فورس اشاریے، واپسی ہجرت اور بارڈر موومنٹ کا ڈیٹا، ترسیلات زر اور سرمایہ کاری اکاؤنٹس کی معلومات، گھریلو و لیبر فورس سروے، ایس ڈی جی سے متعلق اشاریے، قومی جاب میچنگ پلیٹ فارمز اور متعلقہ بین الاقوامی تنظیموں کے ڈیٹا سیٹس کو مربوط کرے گا۔
تجزیاتی نتائج میں لیبر سپلائی و ڈیمانڈ رجحانات، ممالک اور شعبہ جات کے لحاظ سے مہارتوں کی طلب کا تجزیہ، اسکلز گیپ کا جائزہ، اجرتوں کے رجحانات، آجرین کے پروفائلز، بھرتی کے طریقہ کار، اور واپسی و بحالی کے پیٹرنز شامل ہوں گے۔ان نتائج سے دوطرفہ لیبر مذاکرات، مہارتوں کی ترقی کی منصوبہ بندی، تارکینِ وطن کے تحفظ کے اقدامات، آجرین سے روابط کی حکمتِ عملی اور پارلیمانی نگرانی میں مدد ملنے کی توقع ہے۔425 ملین روپے کے تخمینی بجٹ میں ایک مرتبہ آنے والے سرمایہ جاتی اخراجات اور دو سالہ مدت کے دوران سالانہ جاری اخراجات دونوں شامل ہیں۔
بجٹ کی تفصیل کے مطابق سرمایہ جاتی اخراجات میں سسٹم ڈیزائن اور آرکیٹیکچر کی تیاری، ہارڈویئر اور انفراسٹرکچر کی خریداری، اور ابتدائی ڈیٹا کی بہتری و معیاری سازی شامل ہیں۔ جبکہ جاری اخراجات میں انسانی وسائل کی تنخواہیں، سافٹ ویئر لائسنس اور سبسکرپشنز، ہوسٹنگ اور سائبر سیکیورٹی، مسلسل ڈیٹا اپ گریڈیشن، استعداد کار میں اضافہ، سیمینارز اور دیگر متفرق اخراجات شامل ہوں گے۔منصوبے پر عملدرآمد تین مراحل میں مکمل کیا جائے گا: سسٹم ڈیزائن اور انفراسٹرکچر کی تنصیب، ڈیٹا انضمام اور ڈیش بورڈ کی تیاری، اور مکمل آپریشنلائزیشن و توسیع۔
تجویز کے مطابق ایل ایم آر سی کے قیام سے ذیلی اداروں کے ساتھ مربوط ایک مرکزی ڈیجیٹل پلیٹ فارم تشکیل پائے گا، شواہد پر مبنی پالیسی سازی میں بہتری آئے گی، ڈیٹا کی بکھراؤ میں کمی ہوگی، اور لیبر مارکیٹ اصلاحات کیلئے مضبوط تجزیاتی بنیاد فراہم ہوگی۔
مزید برآں، تربیتی اداروں اور بیرونِ ملک ملازمتوں کی طلب کے درمیان بہتر ہم آہنگی، نئے اور ابھرتے ہوئے ممالک کے ساتھ دوطرفہ لیبر معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں میں معاونت، اور نگرانی و جائزہ نظام میں بہتری کی توقع کی گئی ہے۔دستاویز کے مطابق بہتر ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی کے نتیجے میں ہنرمند افرادی قوت کے بیرونِ ملک روزگار میں اضافے سے سالانہ 5 سے 10 ارب امریکی ڈالر تک اضافی آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔