پنجاب کی جانب سے مقامی مویشی نسلوں کے فروغ کیلئے اہم اقدام شروع کر دیا گیا

Spread the love

لاہور۔26 مارچ (اے بی سی):پنجاب حکومت نے مقامی مویشی نسلوں، بشمول ساہیوال گائے اور نیلی راوی بھینس کے تحفظ اور فروغ کیلئے ایک اقدام شروع کیا ہے۔پنجاب ہرڈ ٹرانسفارمیشن ٹو انہانس لائیو سٹاک پروڈکٹیویٹی پروگرام کے تحت 20 ارب روپے کے مجموعی فنڈ میں سے 4 ارب روپے پروجنی ٹیسٹنگ پروگرام (پی ٹی پی ) کیلئے مختص کئے گئے ہیں تاکہ جینیاتی صلاحیت اور نسل کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔محکمہ لائیو سٹاک پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خلیق شفیع نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ مقامی نسلوں نیلی راوی بھینس، ساہیوال اور چولستانی مویشی کے لئے سیکس سورٹڈ سیمن کی تیاری کی سکیمیں پی ٹی پی میں رجسٹرڈ جانوروں کیلئے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی نسلوں کے ساتھ بے قابو کراس بریڈنگ نے مقامی مویشیوں کو شدید متاثر کیا ہے جس سے جینیاتی خصوصیات غیر یقینی اور جسمانی ساخت متاثر ہوئی ہے۔پنجاب میں تقریباً 5 لاکھ ساہیوال گائیں اور 20 سے 25 لاکھ چولستانی مویشی موجود ہیں جبکہ نیلی راوی بھینسوں کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے ایک کروڑ 50 لاکھ کے درمیان ہے۔ ڈاکٹر خلیق شفیع کے مطابق یہ پروگرام ساہیوال کیٹل بریڈرز سوسائٹی اور بفیلو بریڈرز ایسوسی ایشن کے تعاون سے جاری ہے۔ اہم اقدامات میں بریڈ کنزرویشن یونٹس کا قیام، PTP کی توسیع، بل ڈیم (بیل کی ماں) سکیم اور 3,000 لیٹر سے زائد دودھ دینے والی مادہ کی بنیاد پر منظم بریڈنگ اور بیلوں کا انتخاب شامل ہے۔

یہ منصوبہ مختلف اداروں کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جن میں پتوکی میں بفیلو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، بہادرنگر (اوکاڑہ) میں لائیو سٹاک پروڈکشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور جھنگ میں مقامی نسلوں کے تحفظ کا ریسرچ سینٹر شامل ہیں۔بریڈرز نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان کے مقامی مویشی شعبے کی بحالی اور اس کی طویل المدتی صلاحیت کو اجاگر کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ساہیوال کاؤ بریڈرز سوسائٹی کے ڈائریکٹر ٹیکنیکل ڈاکٹر محمد عمران بشارت نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ منصوبہ ایک اہم وقت پر شروع کیا گیا ہے اور مقامی نسلوں کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ درست تجارتی فریم ورک اور جینیاتی وسائل کے بہتر استعمال سے پاکستان نسل کے معیار اور پیداوار میں نمایاں بہتری لا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بریڈنگ سسٹمز کو مزید بہتر بنانے کی بڑی گنجائش موجود ہے جس میں اعلیٰ معیار کے بریڈنگ سٹاک کی تیاری کے لئے بہترین بل ڈیم کی نشاندہی شامل ہے۔ ڈاکٹر محمد عمران بشارت نے زور دیا کہ کوآپریٹو لائیو سٹاک اور ڈیری فارمنگ ماڈلز کو اپنانا شعبے کی پائیدار ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ مارکیٹ اتار چڑھاؤ خصوصاً افغانستان کے ساتھ تجارتی صورتحال سے جڑے عوامل، مضبوط مارکیٹ ڈھانچے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں تاکہ مویشی پال حضرات کو بہتر سہارا مل سکے اور آمدنی مستحکم رہے،ان کے مطابق پاکستان کے پاس اعلیٰ پیداوار دینے والے جانور موجود ہیں جن میں نیلی راوی بھینس سالانہ تقریباً 4,000 لیٹر اور ساہیوال گائے تقریباً 3,500 لیٹر دودھ دیتی ہے جو مستقبل کی ترقی کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مویشیوں کے بہتر انتظامی طریقوں کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مؤثر ریگولیٹری نگرانی جانوروں کی صحت، افزائش اور طویل المدتی پیداوار کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقامی نسلیں کم لاگت اور پاکستان کے موسمی حالات کے لئے موزوں ہیں اور ان کی قدرتی مزاحمت انہیں پائیدار ڈیری پیداوار کے لئے اہم بناتی ہے۔انہوں نے بنگلہ دیش، کینیا اور سری لنکا جیسے ممالک میں ساہیوال نسل کے سیمن اور ایمبریوز میں بڑھتی ہوئی عالمی دلچسپی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ برآمدی نظام کی ترقی سے پاکستان کے لائیو سٹاک شعبے کے لئے نئی آمدنی کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button