
اسلام آباد-27 مارچ (اے بی سی):سندھ میں 2022 کے سیلاب سے تباہ ہونے والے 722 سکولوں کی ازسرِنو تعمیر کے لئے 302.5 ملین ڈالر مالیت کا بڑا تعلیمی بحالی پروگرام جاری ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق سندھ سیکنڈری ایجوکیشن امپروومنٹ پراجیکٹ ایڈیشنل فنانسنگ (SSEIP-AF) کے تحت سکولوں کو موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ انفراسٹرکچر کے ساتھ دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور انہیں جدید تعلیمی معیار کے مطابق اپ گریڈ کیا جائے گا۔یہ پروگرام سیلاب سے متاثرہ پانچ اضلاع خیرپور، نوشہرو فیروز، قمبر شہدادکوٹ، لاڑکانہ اور دادو کا احاطہ کرتا ہے۔دستاویز کے مطابق مکمل طور پر تباہ شدہ 722 سکولوں کی دوبارہ تعمیر کی جائے گی جبکہ ان میں سے 528 سکولوں کو پرائمری سے ایلیمنٹری اور سیکنڈری سطح تک بھی اپ گریڈ کیا جائے گا۔
تعمیرِ نو کے کام کے لئے 600 سے زائد سکولوں پر مشتمل مختلف پیکیجز میں ٹھیکے دیے جا چکے ہیں جبکہ سائٹس کی حوالگی اور مٹی کے تجزیے مکمل ہونے کے بعد تعمیراتی سرگرمیاں مرحلہ وار شروع کی جائیں گی۔پراجیکٹ اپ ڈیٹس کے مطابق ڈیزائن کا کام جزوی طور پر مکمل ہو چکا ہے اور عملی کام کا آغاز بھی ہو گیا ہے جبکہ ڈیزائن کا مرحلہ جلد مکمل ہونے کی توقع ہے۔یہ تعمیرِ نو پروگرام دسمبر 2026 سے جنوری 2027 کے درمیان مکمل ہونے کی توقع ہے۔ موسمیاتی مزاحم ڈیزائن کے تحت سکولوں کی تعمیر مستقبل کی آفات سے تعلیمی ڈھانچے کے تحفظ میں مدد دے گی اور سندھ کے حساس اضلاع میں بچوں کی تعلیم کا تسلسل یقینی بنائے گی۔