
اسلام آباد-4 مئی (اے بی سی):پاکستان نے مالی سال 2025-26 کی جولائی تا جنوری مدت کے دوران تقریباً 2 لاکھ 48 ہزار ٹن آلو برآمد کئے، جو بدلتے ہوئے تجارتی حالات کے باوجود عالمی منڈیوں میں مستحکم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔مالیاتی لحاظ سے برآمدات کا حجم تقریباً 56 ملین ڈالر رہا، جو ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران طلب میں تسلسل اور رسد کے استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
متحدہ عرب امارات سب سے بڑی برآمدی منڈی کے طور پر سامنے آیا، جس کے بعد سری لنکا کا نمبر رہا، جبکہ افغانستان ایک اہم علاقائی مارکیٹ کے طور پر برقرار رہا۔ مالی سال کی پہلی ششماہی میں افغانستان کو برآمدات 29,411.90 ٹن رہیں۔ خلیجی خطہ جس میں متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان شامل ہیں ۔پاکستانی آلو کے لیے مسلسل مستحکم طلب کا مظاہرہ کرتا رہا۔دیگر منڈیوں میں سری لنکا ایک اہم خریدار کے طور پر ابھرا تاہم اس کی درآمدات مقامی رسد کی صورتحال کے مطابق اتار چڑھاؤ کا شکار رہیں۔
صومالیہ جیسے نسبتاً چھوٹے ممالک نے بھی محدود مقدار میں درآمدات کیں، جو پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں تدریجی تنوع کی نشاندہی کرتا ہے۔اس شعبے کے لیے ایک اہم مثبت پیش رفت روسی مارکیٹ کی بحالی ہے۔ پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی کے مینیجر ایگری پراڈکٹس خاور ندیم کے مطابق روس کی جانب سے پنجاب سے آلو کی درآمدات کی اجازت ملنے کے بعد پاکستان کو زرعی تجارت میں نمایاں فائدہ حاصل ہوا ہے۔نیشنل پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (این پی پی او) نے مئی 2025 سے نافذ فائٹو سینیٹری پابندیاں ختم کر دیں، جس کے بعد برآمد کنندگان کو دوبارہ ترسیلات شروع کرنے کی اجازت مل گئی۔
ابتدائی مرحلے میں روس نے 8 اپریل سے تین پاکستانی کمپنیوں کو آلو برآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ خاور ندیم نے بتایا کہ منظور شدہ برآمد کنندگان کی تعداد بڑھانے کے لیے کوششیں جاری ہیں اور مزید کمپنیوں کے لیے اجازت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 کمپنیوں کی فہرست روسی حکام کو پہلے ہی ارسال کی جا چکی ہے اور مزید رسائی کے لیے رابطے جاری ہیں۔خاور ندیم کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں آلو کی پیداوار ریکارڈ سطح پر ہے۔ “اس سال پیداوار تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ میٹرک ٹن ہے جبکہ گزشتہ سال یہ 87 لاکھ میٹرک ٹن تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو 40 سے 45 لاکھ میٹرک ٹن زائد پیداوار کی توقع ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عام طور پر سالانہ 5 لاکھ سے 6 لاکھ ٹن آلو برآمد کرتا ہے، جو اس شعبے کی مضبوط برآمدی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔حالیہ رجحانات کے مطابق پاکستان کی آلو برآمدات میں لچک برقرار رہی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں مضبوط آمدن کے بعد 2023-24 میں کمی دیکھی گئی، جبکہ 2024-25 میں زیادہ حجم کی بنیاد پر بحالی ہوئی۔ موجودہ مالی سال میں بھی یہی رجحان جاری رہنے کی توقع ہے، جہاں مستحکم برآمدی حجم اور بہتر مارکیٹ رسائی مثبت منظرنامہ پیش کر رہے ہیں۔