پاکستانی سائنسدانوں نے 9.66 ملی میٹر دانے والی نئی باسمتی قسم تیار کر لی

Spread the love

لاہور۔4جنوری (اے پی پی):رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (آر آر آئی) کے سائنسدانوں نے باسمتی چاول کی ایک نئی قسم تیار کی ہے جس کے دانے کی لمبائی 9.66 ملی میٹر اور جو اب تک پاکستان میں تیار ہونے والی سب سےلمبےدانے والی باسمتی قسم قرار دی جا رہی ہے۔آر آر آئی کالا شاہ کاکو کے سینئر سائنسدان ڈاکٹر عثمان سلیم نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ سلطان سپر باسمتی نامی اس نئی قسم کو 2025 میں تیار کیا گیا جس کے دانے کی لمبائی 9.66 ملی میٹر اوریہ ملکی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلطان سپر باسمتی پکنے کے بعد تقریبا20 ملی میٹر تک لمبا ہو جاتا ہے جو اسے بین الاقوامی منڈیوں میں خاص طور پر پرکشش بناتا ہے،یہ قسم خوشبو، ذائقے اور پکنے کی خصوصیات کے لحاظ سے اعلی معیار کی حامل ہے۔انہوں نے کہاکہ اس سے قبل 2023 میں سونا سپر باسمتی متعارف کرائی گئی تھی جس کے دانے کی لمبائی9.5 ملی میٹر تھی جبکہ اس سے پہلے کائنات باسمتی کو سب سے لمبے دانے والی قسم سمجھا جاتا تھا جس کی لمبائی 8.26 ملی میٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق کائنات باسمتی خالص باسمتی نہیں بلکہ خوشبودار باریک چاول کی ایک قسم ہے۔ڈاکٹر عثمان سلیم نے مزیدبتایا کہ سلطان سپر باسمتی کی فی ایکڑ پیداوار77 من تک ہے، جو موجودہ اقسام کی اوسط پیداوار45 من فی ایکڑ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ نسبتا دیر سے کاشت ہونے والی قسم ہے، تاہم اس کی برداشت اور پکنے کا دورانیہ دیگر عام باسمتی اقسام کے برابر ہے۔انہوں نے کہاکہ ادارہ اس وقت مزید تین نئی باسمتی اقسام پر کام کر رہا ہے، جن کے آئندہ دو سے تین برس میں متعارف ہونے کی توقع ہے۔انہوں نے بتایا کہ رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا قیام1926 میں برطانوی دور میں عمل میں آیا تھا،بعد ازاں1970 کی دہائی میں اسے ایک مکمل تحقیقی ادارے کا درجہ دیا گیا۔ اب تک یہ ادارہ باسمتی 385، سپر باسمتی، سپر گولڈ اور چناب سمیت 33 اعلی پیداواری باریک اور موٹی اقسام تیار کر چکا ہے۔

چاول کے برآمد کنندگان نے اس نئی قسم کی تیاری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے پاکستان عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکے گا۔رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (ریپ) کے سابق سینئر نائب چیئرمین توفیق احمد خان نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں طویل دانے والے چاول کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم برآمدی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ کسان اس قسم کو تیزی سے اپنائیں تاکہ برآمد کے لیے وافر مقدار دستیاب ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقی ادارے اور حکومت مل کر اس نئی قسم کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چاول کے دانے کا ملنگ کے دوران ٹوٹنے سے محفوظ رہنا انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں پاکستانی چاول کے معیار پر اثر پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی چاول اپنی خوشبو، دانے کی لمبائی اور پکنے کی خوبیوں کے باعث دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں، جبکہ غیر باسمتی اقسام بھی افریقی، مشرقِ وسطی اور دیگر خطوں میں وسیع منڈی رکھتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button