
اسلام آباد۔2مارچ (اے بی سی):نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کی جانب سے مرتب کردہ کارکردگی کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سطح کے اہم مہارت ترقیاتی پروگراموں سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد میں سے نصف سے زائد نے روزگار حاصل کر لیا ہے، جو نوجوانوں کی ملازمت کے مواقع بڑھانے میں سرکاری سرپرستی میں جاری تکنیکی تربیتی پروگراموں کے اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری ٹریسر اسٹڈیز کے نتائج کے مطابق، اسکلز فار آل پروگرام کے تحت 2023 میں تربیت مکمل کرنے والے افراد میں سے 53 فیصد سروے کے وقت برسرِ روزگار تھے، جبکہ 47 فیصد بے روزگار رہے۔
اس مطالعے میں مجموعی طور پر 37 ہزار 440 فارغ التحصیل افراد کو شامل کیا گیا جنہوں نے مذکورہ مدت کے دوران تربیت مکمل کی۔آمدن سے متعلق تفصیلات بھی مثبت رجحانات کی عکاسی کرتی ہیں۔ برسرِ روزگار تربیت یافتگان میں سے 38 فیصد ماہانہ 50 ہزار روپے سے زائد کما رہے تھے، جبکہ 18 فیصد کی ماہانہ آمدن 31 ہزار سے 50 ہزار روپے کے درمیان تھی، جو روزگار کے بازار میں داخل ہونے والے ہنرمند نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کے لیے بہتر آمدنی کے امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح وزیرِ اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایم وائی ایس ڈی پی) بیچ اوّل کے لیے کی گئی ٹریسر اسٹڈی، جس میں 2024 کے دوران تربیت مکمل کرنے والے 51 ہزار 692 افراد کو شامل کیا گیا، نے بھی روزگار کے یکساں نتائج ظاہر کیے۔ سروے کے مطابق 53 فیصد تربیت یافتگان کو ملازمت مل گئی، جبکہ 47 فیصد جائزے کے وقت تک روزگار کی تلاش میں تھے۔پی ایم وائی ایس ڈی پی بیچ دوم، جس میں تقریباً 77 ہزار تربیت یافتگان شامل ہیں، کے لیے ٹریسر اسٹڈی کا آغاز جلد متوقع ہے۔
یہ اعداد و شمار افرادی قوت کی پیداواری صلاحیت اور آمدن کی سطح میں اضافے کے لیے منظم فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے اہم کردار کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ فارغ التحصیل افراد میں بے روزگاری مزید کم کرنے کے لیے صنعتوں کے ساتھ مضبوط روابط کی ضرورت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔تازہ کارکردگی جائزے سے توقع ہے کہ ملک بھر میں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے پروگراموں سے متعلق آئندہ پالیسی فیصلوں اور فنڈز کی تقسیم میں رہنمائی ملے گی۔