
اسلام آباد۔25مئی (اے پی پی):پاکستان نے لائیو سٹاک برآمدات میں تیزی لانے کے لیے گوشت کی پراسیسنگ کے خصوصی برآمدی زونز اور جانوروں کی بڑی بیماریوں سے پاک کمپارٹمنٹس قائم کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے جو ملک کے تیزی سے ترقی کرنے والے معاشی شعبوں میں شامل لائیو سٹاک سیکٹر کی جدیدکاری کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ سالنامہ 2024-25 جو ویلتھ پاکستان کو دستیاب ہے، کے مطابق بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید مذبح خانے قائم کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ اور ویلیو ایڈڈ لائیو سٹاک برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے محدود مدت کے مالی معاونتی پروگرام متعارف کرانے پر بھی کام جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق نسلوں کی بہتری بھی ترجیحی شعبوں میں شامل ہے جس کے تحت بنیادی افزائشی ریوڑ قائم کرنے، زیادہ پیداوار دینے والی دودھ، گوشت اور مٹن نسلیں درآمد کرنے اور جدید جینیاتی مواد جیسے مخصوص نطفہ (Sexed Semen)، ایمبریوز اور اووا متعارف کرانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات سے پیداوار میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور قومی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔پاکستان کی دیہی معیشت میں مویشی پالنا اب بھی انتہائی اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں آٹھ ملین سے زائد دیہی خاندان لائیو سٹاک کی پیداوار سے وابستہ ہیں اور یہ شعبہ زرعی خاندانوں کی آمدنی میں تقریباً 35 سے 40 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔لائیو سٹاک سیکٹر نے زرعی معیشت میں بھی اپنی اہمیت مزید مستحکم کی ہے۔ مالی سال 2024-25 کے دوران یہ زرعی ویلیو ایڈیشن میں 61.2 فیصد جبکہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 14.7 فیصد حصہ دار رہا۔
رپورٹ کے مطابق اس شعبے کی مجموعی ویلیو ایڈیشن 2022-23 میں 5,587 ارب روپے سے بڑھ کر 2023-24 میں 5,837 ارب روپے تک پہنچ گئی جو 4.4 فیصد ترقی کو ظاہر کرتی ہے۔لائیو سٹاک شعبہ زرمبادلہ کے حصول میں بھی کردار ادا کر رہا ہے اور مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کی مجموعی برآمدات میں اس کا حصہ تقریباً 2.9 فیصد رہا جو قومی معیشت میں اس کی بڑھتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے حکومت نجی شعبے کی قیادت میں ترقیاتی حکمت عملی پر عمل کر رہی ہے جسے سرکاری پالیسی اقدامات کی معاونت حاصل ہوگی۔اس حکمت عملی میں ویٹرنری صحت کی سہولیات کی بہتری، افزائش نسل اور مویشی پالنے کے جدید طریقوں کو فروغ دینا، مصنوعی تولیدی خدمات کو وسعت دینا، متوازن خوراک کی فراہمی اور جدید تولیدی ٹیکنالوجیز جیسے ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی (ای ٹی ٹی) اور اِن ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) کو فروغ دینا شامل ہے۔اس کے ساتھ معاشی لحاظ سے اہم بیماریوں جیسے منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی)، چھوٹے جگالی کرنے والے جانوروں کی بیماری (پی پی آر)، لمپی سکن بیماری (ایل ایس ڈی) اور برڈ فلو کے کنٹرول پر بھی توجہ دی جا رہی ہے، کیونکہ یہ بیماریاں پیداوار، تجارت اور مجموعی لائیو سٹاک معیشت کو متاثر کرتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت لائیو سٹاک شعبے کی استعداد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشی ترقی، غذائی تحفظ اور دیہی علاقوں میں روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے۔دوسری جانب پاکستان کی پولٹری صنعت نے بھی مضبوط پیش رفت برقرار رکھی ہے اور ملک بھر میں 15 لاکھ سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر رہی ہے جبکہ معیشت میں اس کی مجموعی ویلیو ایڈیشن 853 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔گزشتہ دس برسوں کے دوران پولٹری شعبے نے اوسطاً 8.1 فیصد سالانہ ترقی کی شرح ریکارڈ کی جس کے نتیجے میں پاکستان دنیا کا گیارہواں بڑا پولٹری پیدا کرنے والا ملک بن گیا ہے۔
پولٹری صنعت اس وقت ملک کی مجموعی گوشت پیداوار میں تقریباً 43.3 فیصد حصہ ڈال رہی ہے جس سے یہ قومی غذائی نظام اور غذائی ضروریات کا اہم جزو بن چکی ہے۔پولٹری شعبے کی ترقیاتی حکمت عملی میں بیماریوں سے بچائو، پیداواری نظام کی جدیدکاری، ویلیو ایڈڈ پراسیسنگ، بہتر پولٹری پالنے کے طریقوں اور مصنوعات میں تنوع شامل ہیں۔صنعت کی معاونت کے لیے حکومت نے کسان دوست پالیسیاں بھی متعارف کرائی ہیں تاکہ تجارتی اور دیہی پولٹری فارمنگ کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔