چار بڑے ڈیموں کے ذریعے 8 ملین ایکڑ فٹ سے زائد آبی ذخیرہ گنجائش کے حصول کے لیے کام تیز

Spread the love

اسلام آباد۔30مئی (اے پی پی):حکومت نے چار بڑے ڈیم منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے، جن سے 8 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) سے زائد پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش حاصل ہونے کی توقع ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سالانہ دریائی بہاؤ کا تقریباً 80 فیصد حصہ صرف 92 دنوں، یعنی جون سے اگست کے دوران، موصول ہوتا ہے، جبکہ باقی 20 فیصد بہاؤ سال کے دیگر 273 دنوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

پانی کی اس غیر متوازن تقسیم نے طویل عرصے سے آبپاشی کے انتظام، سیلابی کنٹرول اور خشک موسم میں پانی کی دستیابی کے حوالے سے بڑے چیلنجز پیدا کیے ہوئے ہیں۔اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے مجموعی طور پر 13.168 ملین ایکڑ فٹ زندہ ذخیرہ گنجائش رکھنے والے بڑے آبی ذخائر تعمیر کیے ہیں، جو پورے سال سندھ طاس آبپاشی نظام میں پانی کے بہاؤ کو منظم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔پاکستان کے تین بڑے آبی ذخائر میں تربیلا ڈیم شامل ہے، جس کی زندہ ذخیرہ گنجائش 5.580 ملین ایکڑ فٹ ہے جبکہ منگلا ڈیم کی گنجائش 7.277 ملین ایکڑ فٹ اور چشمہ بیراج کی 0.311 ملین ایکڑ فٹ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق منگلا آبی ذخیرے میں تلچھٹ جمع ہونے کے باعث کم ہونے والی گنجائش کا ایک حصہ منگلا ڈیم بلند کرنے کے منصوبے کے ذریعے بحال کیا گیا، جس سے 2.88 ملین ایکڑ فٹ اضافی ذخیرہ گنجائش حاصل ہوئی۔

واپڈا نے موجودہ دور کو ’’ڈیموں کی دہائی‘‘ قرار دیتے ہوئے قومی آبی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد بڑے آبی منصوبوں پر کام تیز کر دیا ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث پانی کے وسائل پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران واپڈا نے چار منصوبے مکمل کیے، جن سے مجموعی طور پر 3.914 ملین ایکڑ فٹ زندہ ذخیرہ گنجائش کا اضافہ ہوا۔ ان منصوبوں میں منگلا ڈیم بلند کرنے کا منصوبہ، گومل زام ڈیم جس کی گنجائش 0.892 ملین ایکڑ فٹ ہے، ست پارہ ڈیم جس کی گنجائش 0.053 ملین ایکڑ فٹ ہے اور دراوت ڈیم جس کی گنجائش 0.089 ملین ایکڑ فٹ ہے، شامل ہیں۔

اس وقت چار بڑے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے، جن کی مجموعی زندہ ذخیرہ گنجائش 8.136 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ ان میں تزویراتی اہمیت کا حامل دیامر بھاشا ڈیم شامل ہے، جو اکیلا 6.4 ملین ایکڑ فٹ ذخیرہ گنجائش فراہم کرے گا۔ دیگر منصوبوں میں مہمند ڈیم (0.676 ملین ایکڑ فٹ)، کرم تنگی ڈیم (0.90 ملین ایکڑ فٹ) اور نائی گج ڈیم (0.16 ملین ایکڑ فٹ) شامل ہیں۔اس کے علاوہ متعدد نئے آبی ذخیرہ منصوبے منصوبہ بندی اور ڈیزائن کے مراحل میں ہیں، جن کی مجموعی متوقع زندہ ذخیرہ گنجائش 15.88 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

ان منصوبوں میں سندھ بیراج (2.0 ملین ایکڑ فٹ)، شیوک کثیر المقاصد ڈیم منصوبہ (5.5 ملین ایکڑ فٹ)، اکھوری ڈیم (7.0 ملین ایکڑ فٹ)، چنیوٹ ڈیم (0.93 ملین ایکڑ فٹ) اور مرنج ڈیم (0.45 ملین ایکڑ فٹ) شامل ہیں۔ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ واپڈا نے اپنے ہائیڈرو میٹرولوجیکل مانیٹرنگ اور ٹیلی میٹری نظام کو بھی وسعت دی ہے تاکہ دریاؤں کے بہاؤ، سرحد پار آنے والے آبی دھاروں، آبی ذخائر کی سطح اور بارشوں کے رجحانات کی حقیقی وقت میں نگرانی کی جا سکے۔ یہ نظام بروقت آپریشنل فیصلوں میں معاونت اور سیلاب و خشک سالی جیسے حالات سے نمٹنے کی تیاری بہتر بنانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button