تنوع اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے پاکستان کی ترشاوہ پھلوں کی برآمدات ایک ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں

Spread the love

اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):پاکستان کا ترشاوہ پھلوں کا شعبہ برآمدات میں نمایاں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اور نئی اقسام کے فروغ، معیار میں بہتری اور ویلیو ایڈڈ پروسیسنگ کے ذریعے آئندہ 6 سال میں سالانہ برآمدی آمدن ایک ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔وزارتِ تجارت کے تحت پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور پی ایچ ڈی سی سٹرس ایکسپورٹ سب کمیٹی کے چیئرمین شوائب احمد بسرا نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ صنعت کے جائزوں کے مطابق یہ ہدف قابلِ حصول ہے بشرطیکہ کاشتکار جدید پیداواری اور بعد از برداشت طریقوں کے ساتھ بیج سے پاک، ابتدائی اور تاخیر سے تیار ہونے والی اقسام کو اپنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی اپنی برآمدی صلاحیت کا مظاہرہ کر چکا ہے جہاں 2021 میں ترشاوہ پھلوں کی برآمدات تقریباً 250 ملین ڈالر تک پہنچیں۔ یہ کارکردگی ہمارے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کی مضبوط صلاحیتوں کی عکاس ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں پسند کی جانے والی اقسام متعارف کرانے سے پاکستان اعلیٰ قدر والی منڈیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ کینو کے علاوہ منڈیرن، ٹینجرین، کلیمنٹائن، سنگترہ، لیموں اور گریپ فروٹ جیسی اقسام کی طرف تنوع سے سال بھر برآمدات ممکن ہوں گی اور پریمئیم عالمی منڈیوں تک وسیع رسائی حاصل کی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ معیار کی سرٹیفکیشن، ٹریس ایبلٹی نظام، صاف نرسریوں اور درآمدی جراثیمی مادے (جرم پلازم) کے استعمال کو مضبوط بنانے سے پاکستان کی مسابقتی صلاحیت مزید بہتر ہوگی۔انہوں نے خصوصاً پوٹھوہار کے علاقے میں غیر استعمال شدہ اراضی پر مخصوص سٹرس کلسٹرز کے قیام کی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا تاکہ جدید اور برآمدات پر مبنی پیداوار کو فروغ دیا جا سکے۔شوائب احمد بسرا نے کہا کہ کینو کئی دہائیوں سے پاکستان کی ترشاوہ صنعت کی ریڑھ کی ہڈی رہا ہے تاہم عالمی طلب میں تبدیلی آ رہی ہے اور اگر ہم اپنی پیداوار کو بین الاقوامی ترجیحات سے ہم آہنگ کریں تو نئی ترقیاتی راہیں کھل سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سیزن میں کینو کی پیداوار تقریباً 2.8 ملین ٹن متوقع ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے اور بہتر پیداواری حالات کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی پیداوار ویلیو ایڈیشن کے فروغ اور برآمدات میں تنوع کے لئے ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے جس سے کاشتکاروں اور برآمد کنندگان دونوں کو بہتر منافع حاصل ہو سکتا ہے۔انہوں نے جوسز، کنسنٹریٹس اور پیک شدہ مشروبات جیسے پروسیس شدہ ترشاوہ مصنوعات کی بڑھتی ہوئی گنجائش کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ویلیو ایڈڈ برآمدات زیادہ آمدن اور طویل شیلف لائف فراہم کرتی ہیں۔عالمی سطح پر ترقی کا دارومدار ویلیو ایڈیشن پر ہے اور پاکستان کے پاس مضبوط ترشاوہ پروسیسنگ صنعت قائم کرنے کے لئے خام مال کی وافر بنیاد موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت سمندری راستے سے مشرقِ وسطیٰ، انڈونیشیا اور فلپائن سمیت مختلف منڈیوں کو ترشاوہ پھل برآمد کر رہا ہے اور رواں سیزن میں برآمدات میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسطی ایشیائی ممالک بھی قربت اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث امید افزا منڈیاں ہیں۔اس وقت پاکستان دنیا کا 18واں بڑا ترشاوہ پھل برآمد کنندہ ہے جبکہ یہ شعبہ مجموعی پھلوں کی پیداوار کا تقریباً 30 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

کینو پاکستان کی کل ترشاوہ پیداوار کا لگ بھگ 85 فیصد اور ترشاوہ برآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ بناتا ہے جو ملکی اور عالمی منڈیوں میں اس کے مرکزی کردار کو ظاہر کرتا ہے۔ترشاوہ پھلوں کی پیداوار کا بڑا حصہ پنجاب میں مرکوز ہے جہاں سرگودھا، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ملتان، خانیوال، لیہ اور فتح جنگ بڑے پیداواری اضلاع ہیں۔ اس جغرافیائی ارتکاز نے پاکستان کو کینو کا عالمی مرکز بنا دیا ہے جہاں دنیا کی تقریباً 90 فیصد کینو پیداوار ہوتی ہے جو مستقبل میں مزید متنوع اور اعلیٰ قدر والی ترشاوہ برآمدات کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button