ای ٹی پی بی نے 2015 سے 2025 کے دوران 28.45 ارب روپے کی آمدن حاصل کی

Spread the love

اسلام آباد۔7جنوری (اے پی پی):ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی)نے دس برسوں 2015 سے 2025 کے دوران مجموعی طور پر 28.45 ارب روپے کی آمدن ریکارڈ کی ہے،اس عرصے کے دوران ادارے کے کل اخراجات 23.42 ارب روپے رہے جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں ای ٹی پی بی کی مالی پوزیشن مثبت رہی اور آمدن اخراجات سے نمایاں حد تک زیادہ رہی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ای ٹی پی بی کی آمدن 16-2015 میں 1.34 ارب روپے سے بڑھ کر 25-2024 میں 5.53 ارب روپے تک پہنچ گئی۔

حکام کے مطابق اس مسلسل اضافے کی وجہ لیز مینجمنٹ میں بہتری، واجبات کی بہتر وصولی، اہم شہری جائیدادوں کی کمرشل بنیاد پر آمدن میں شمولیت اور مالی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات ہیں۔اخراجات کے حوالے سے بورڈ نے 16-2015 میں 1.16 ارب روپے خرچ کئے جو بتدریج بڑھتے ہوئے 25-2024 میں 5 ارب روپے سے تجاوز کر گئے۔ اخراجات کے اہم شعبوں میں تنخواہیں، الاؤنسز اور پنشن، بجلی، گیس اور ٹیلی فون کے اخراجات، پرنٹنگ اور اشاعت، مزارات سے متعلق تہوار، سول ورکس اور مذہبی و ثقافتی ورثے کی جائیدادوں کی ترقی اور دیکھ بھال شامل ہیں۔

ای ٹی پی بی برصغیر کی تقسیم کے بعد وراثت میں ملنے والی ایویکیو ٹرسٹ جائیدادوں کے ایک وسیع اور تاریخی طور پر حساس ذخیرے کا انتظام سنبھالتا ہے۔ ان جائیدادوں میں مندر، گردوارے، مزارات، تعلیمی ادارے، زرعی اراضی اور ملک بھر میں واقع شہری کمرشل پراپرٹیز شامل ہیں۔ان اثاثوں کا انتظام اور تصرف ایویکیو ٹرسٹ پراپرٹیز (مینجمنٹ اینڈ ڈسپوزل) ایکٹ 1975 کے تحت کیا جاتا ہے جس کے مطابق بورڈ مذہبی ورثے کے تحفظ اور پائیدار آمدن کے حصول کا پابند ہے۔شفافیت اور ڈیجیٹائزیشن کی جانب ایک اہم پیشرفت کے طور پر ای ٹی پی بی نے 15,146 زرعی پلاٹس اور 4,409 شہری جائیدادوں کی جیو میپنگ مکمل کر لی ہے، یہ اقدام ادارے کے وسیع اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد اثاثوں کا تحفظ، تجاوزات کی روک تھام اور جائیدادوں کی بہتر مالیت کا تعین ہے۔جیو میپنگ کے عمل کو سہولت فراہم کرنے کے لئے ایک اینڈرائیڈ ایپلیکیشن بھی متعارف کرائی گئی ہے جس کے ذریعے فیلڈ سٹاف زمینی سروے کے دوران جیو کوآرڈینیٹس ریکارڈ کرتا ہے، تصاویر اپ لوڈ کرتا ہے اور جائیدادوں کے اصل ڈھانچے اور استعمال کا جائزہ لیتا ہے۔

اس کے نتیجے میں شہری ذیلی یونٹس کے 92 فیصد ریکارڈ کو ڈیجیٹل طور پر دستاویزی شکل دے دی گئی ہے جس سے ریکارڈ کی درستگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔جیو میپنگ منصوبہ 2020 میں سروے آف پاکستان کی تکنیکی معاونت سے مکمل کیا گیا اور اسے ماسٹر فائل کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اثاثہ جات کے بہتر انتظام کو یقینی بنایا جا سکے۔ای ٹی پی بی کے ایک سینئر عہدیدار نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ادارے کی تمام مالی پالیسیز اور طریقہ کار وفاقی حکومت کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہیں، مؤثر آپریشنز کے لئے انتظامی اور مالی اختیارات سینئر افسران کو تفویض کیے گئے ہیں جبکہ تمام ادائیگیاں شفافیت اور ٹریس ایبلٹی کو یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل بینکاری نظام کے ذریعے کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلسل اصلاحات، ڈیجیٹل نگرانی اور جائیدادوں کے مؤثر تجارتی استعمال کے ذریعے ای ٹی پی بی اپنی آمدن میں مزید اضافہ کر سکتا ہے جس سے ایک جانب معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور دوسری جانب پاکستان کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button