
اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی) نے گزشتہ چند برسوں کے دوران نافذ کی گئی ساختی، تکنیکی اور گورننس اصلاحات کے نتیجے میں غیر حساب شدہ گیس (یو ایف جی) میں نمایاں کمی حاصل کر لی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز کے مطابق کمپنی نے مالی سال 2019 سے 2025 کے دوران یو ایف جی میں 43.6 ارب مکعب فٹ کمی کی، جو 60 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں سے 12 ارب مکعب فٹ کمی مالی سال 2023 سے 2025 کے دوران بلوچستان میں حاصل کی گئی، جو زیادہ نقصان والے علاقوں میں ہدفی اقدامات کی نشاندہی کرتی ہے،ان اقدامات کی حمایت کے لئے ایس ایس جی سی نے گیس انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کیا۔ سرمایہ کاری مالی سال 2022 میں 9 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 17 ارب روپے ہو گئی جس کے بعد مالی سال 2024 میں 24 ارب روپے اور مالی سال 2025 میں 37 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
کمپنی نے مالی سال 2026 اور 2027 کے لئے 40 ارب روپے سرمایہ کاری کا تخمینہ بھی ظاہر کیا ہے۔اس سرمایہ کاری کے تحت سندھ بھر میں گیس کی ترسیلی نیٹ ورک کے تقریباً 5,000 کلومیٹر حصے کی بحالی کی گئی ہے۔انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ کمپنی نے آپریشنل سطح پر بھی وسیع پیمانے پر تنظیمِ نو کی۔ اس میں زونل اسٹرکچر اور نئے ریجنز کا قیام، نیز محکموں اور ڈویژنز کی ذمہ داریوں کی ازسرِنو تقسیم شامل ہے جس کا مقصد احتساب اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔ایس ایس جی سی کے مطابق ترسیلی نیٹ ورک کی بڑے پیمانے پر تنظیمِ نو، سخت نگرانی، گیس لوڈ مینجمنٹ اور فرنچائز ایریا میں پائپ لائنوں کی جامع بحالی کے باعث محدود گیس وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوا ہے۔ڈیجیٹلائزیشن کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر کمپنی نے پائلٹ منصوبے کے تحت 50 ڈسٹری بیوشن ٹاؤن بارڈر سٹیشنز (TBSs) پر آٹومیشن سسٹمز نصب کئے ہیں۔
اس کے نتائج کی بنیاد پر مزید 47 ٹی بی ایسز اور 18 سیلز میٹر سٹیشنز (SMSs) کو خودکار بنانے کا منصوبہ زیرِ عمل ہے جس میں 42 لیگز یا رنز شامل ہیں۔کمپنی نے پوائنٹس آف ڈیلیوری پر فِسکل میٹرز کے ذریعے گیس کی خریداری کی چوبیس گھنٹے نگرانی بھی ممکن بنا دی ہے۔ تقریباً 100 فیصد گیس کی مقدار اب چیک میٹرز کے ذریعے مانیٹر کی جا رہی ہے جبکہ 78.2 فیصد مقدار ریموٹ ڈیٹا ایکوزیشن سسٹمز کے ذریعے نگرانی میں ہے جس سے شفافیت اور کنٹرول میں اضافہ ہوا ہے۔
پیمائش کی درستگی کو مزید مضبوط بنانے کے لئے موجودہ الیکٹرانک والیوم کریکٹرز کو جدید ورژنز سے تبدیل کیا گیا، سکشن ڈیوائسز کے خلاف نگرانی بہتر بنائی گئی اور میٹر سائزنگ و انتخاب کے نظام کو مؤثر بنایا گیا۔ پیمائشی انفراسٹرکچر کی قابلِ اعتماد حیثیت کی تصدیق ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ نے بھی کی ہے۔مزید برآں ایس ایس جی سی نے تفصیلی سرویز اور ٹیگنگ کی غلطیوں کی درستی کے ذریعے ایس ایم ایس اور ٹی بی ایس سطح پر خرید و فروخت کی مفاہمت کو بہتر بنایا جس سے گیس اکاؤنٹنگ پر کنٹرول مضبوط ہوا اور سسٹم نقصانات میں مزید کمی ممکن ہوئی۔