
اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):صنعتی آلو کی اقسام اپنانے اور ویلیو ایڈڈ پراسیسنگ کو فروغ دینے سے پاکستان آلو کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدن میں نمایاں اضافہ حتیٰ کہ اسے دگناکر سکتا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان ہارٹیکلچر ایکسپورٹ اینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اور سابق صدر سرگودھا چیمبر آف کامرس شعیب احمد بسرا نے کہا کہ عالمی طلب میں اضافے اور ملکی پیداواری صلاحیت میں بہتری کے باعث پاکستان کا آلو کا شعبہ ایک اہم موقع کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاحجم اور مالیت کے لحاظ سے آلو پہلے ہی پاکستان کی سب سے بڑی سبزی برآمد ہے۔ اگر ہم ٹیبل آلو میں اپنی کامیابی کے ساتھ صنعتی آلو کی اقسام کو بھی شامل کر لیں تو چپس، فروزن فرائز اور دیگر پراسیس شدہ مصنوعات کے لیے اعلیٰ قدر والی عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔
شعیب احمد بسرا کے مطابق آلو کی برآمدات عموماً دسمبر کے بعد تیزی پکڑتی ہیں، جب تازہ پیداوار اور کولڈ اسٹوریج میں محفوظ آلو مارکیٹ میں آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں زیادہ پیداوار کے باعث آلو کی وافر دستیابی رہی ہے، جس سے پاکستان تازہ اور پراسیس شدہ دونوں اقسام کی طلب پوری کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔انہوں نے کہا، “پیداوار میں اضافہ ہماری ایک بڑی قوت ہے۔ اگر درست پراسیسنگ حکمتِ عملی اپنائی جائے تو اضافی پیداوار کو کم قدر والی منڈیوں میں فروخت کرنے کے بجائے زیادہ منافع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عالمی حالات میں تبدیلی نے بھی پاکستان کے امکانات کو مضبوط کیا ہے۔ روس اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں سمیت بڑے آلو پیدا کرنے والے خطوں میں موسمیاتی مسائل کے باعث عالمی سپلائی محدود ہوئی ہے اور قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے نئے برآمد کنندگان کے لیے جگہ بنی ہے۔
انہوں نے کہا، “اس صورتحال کا براہِ راست فائدہ کسانوں کی آمدن میں بہتری کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ بہتر قیمتوں نے کاشتکاروں کو آلو کی کاشت بڑھانے کی ترغیب دی ہے، جبکہ برآمد کنندگان کو بھی بہتر منافع حاصل ہو رہا ہے۔شعیب احمد بسرا کے مطابق نیدرلینڈز سے حاصل کی جانے والی اعلیٰ معیار کی بیج اقسام کے استعمال سے پاکستان کی عالمی منڈی میں مسابقت میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقسام بین الاقوامی معیار پر پوری اترتی ہیں اور عالمی منڈیوں میں وسیع پیمانے پر قبول کی جاتی ہیں، جبکہ ان کی طلب مسلسل برقرار ہے۔ان پیش رفتوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترقی کا اگلا مرحلہ ویلیو ایڈیشن میں ہے۔اس وقت ہماری آلو کی پیداوار کا صرف ایک محدود حصہ پراسیس کیا جا رہا ہے، جبکہ ویلیو ایڈڈ برآمدات ہماری مجموعی پیداواری صلاحیت کے مقابلے میں کم ہیں۔ یہ کمی نہیں بلکہ ایک بڑا موقع ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ صنعتی آلو کی اقسام خاص طور پر پراسیسنگ کے لیے تیار کی جاتی ہیں، جن میں کم شکر کی مقدار اور موزوں ساخت جیسی خصوصیات شامل ہوتی ہیں، جو فرائز اور چپس کے لیے یکساں معیار یقینی بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ اقسام بڑے پیمانے پر کاشت ہوں گی تو پراسیسنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری خود بخود بڑھے گی۔انہوں نے زور دیا کہ پراسیسنگ میں تنوع قیمتوں کے استحکام اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کم کرنے میں مدد دے گا۔ “تازہ اور پراسیس شدہ برآمدات کا متوازن امتزاج آلو کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے کے ساتھ ساتھ کسانوں کو قیمتوں میں اچانک کمی بیشی سے محفوظ رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ آلو برآمدی منڈیاں زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ اور قریبی علاقوں تک محدود ہیں، تاہم یورپ، شمالی امریکا، مشرقی ایشیا اور آسٹریلیا جیسی اعلیٰ قدر والی منڈیاں—بالخصوص پراسیس شدہ مصنوعات کے لیےابھی بڑے مگر غیر استعمال شدہ امکانات رکھتی ہیں۔
آئندہ کے حوالے سے شعیب احمد بسرا نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ اچھے زرعی طریقوں کے فروغ، بیج کے معیار کی مؤثر نگرانی اور صنعتی آلو کی پیداوار میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔ انہوں نے کہا، “اگر ہم جدید طریقے اور درست اقسام اپنائیں تو موجودہ آلو کی برآمدات کو بآسانی دگنا کیا جا سکتا ہے۔ صنعتی آلو اور ویلیو ایڈیشن کے ساتھ امکانات اس سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔”آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس آلو کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا واضح اور مثبت راستہ موجود ہے۔ “صنعتی آلو کی اقسام اور پراسیسنگ کو اپناتے ہوئے ہم زیادہ برآمدی آمدن، مستحکم ترقی اور کسانوں و برآمد کنندگان کے لیے ایک پائیدار مستقبل یقینی بنا سکتے ہیں۔