
این ایچ اے کا این45 کے چکدرہ–چترال سیکشن کو کشادہ اور بہتر بنانے کا منصوبہ
اسلام آباد۔10جنوری (اے پی پی):نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)پی سی-ون کی منظوری کے فوراً بعد این۔45 کے 130.24 کلو میٹر طویل چکدرہ–چترال سیکشن کو کشادہ اور بہتر بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق چکدرہ–چترال روٹ کے تین حصے 38.85 کلو میٹر چکدرہ تا تیمورگرہ، 43.39 کلو میٹر اخگرام تا دیر اور 48 کلو میٹر کالکٹک تا چترال کو کشادہ اور اپ گریڈ کیا جائے گا۔منصوبے کی زیادہ تر ضابطہ جاتی کارروائیاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی تقاضے جلد حتمی شکل دے دیئے جائیں گے۔
اس منصوبے کا مقصد خیبر پختونخوا میں شمال–جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور کو بہتر بنانا ہے۔ 312 کلو میٹر طویل این۔45، جو شمال میں چترال کو جنوب میں نوشہرہ سے دیر اور چکدرہ کے ذریعے ملاتی ہے، علاقائی رابطہ کاری اور معاشی سرگرمیوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور دور دراز شمالی اضلاع کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑتی ہے۔دستاویزات کے مطابق سیکشن۔اوّل (چکدرہ تا تیمورگرہ) کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل ہو چکی ہے جبکہ کنسلٹنسی سروسز کی خریداری بھی مکمل کر لی گئی ہے۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ اس وقت کنسلٹنٹ فیلڈ سرویز اور تحقیقات کر رہا ہے، منصوبہ تفصیلی ڈیزائن کے مرحلے میں ہے اور پی سی-ون کی تیاری جاری ہے۔ تفصیلی ڈیزائن اور پی سی-ون کی تکمیل کے بعد سول ورکس کی خریداری کا آغاز کیا جائے گا۔اسی طرح 43.39 کلو میٹر طویل سیکشن۔دوئم (اخگرام تا دیر) کی فزیبلٹی سٹڈی بھی مکمل ہو چکی ہے جبکہ تفصیلی ڈیزائن اور پی سی۔ون کی تیاری کے لئے کنسلٹنسی سروسز کی خریداری کا عمل جاری ہے۔48 کلو میٹر طویل سیکشن۔سوئم (کالکٹک تا چترال) کی فزیبلٹی سٹڈی بھی مکمل ہو چکی ہے تاہم متعلقہ کنسلٹنٹ نے نظرِثانی شدہ پی سی-ون جمع کرائی ہے جس کا این ایچ اے جائزہ لے رہی ہے۔
این ایچ اے نے سول ورکس کی خریداری کا عمل شروع کیا تھا مگر بولی دہندہ کی جانب سے زیادہ قیمت پیش کئے جانے پر یہ عمل منسوخ کر دیا گیا اور منصوبہ اس وقت دوبارہ بولی کے مرحلے میں ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے این ایچ اے کے ترجمان مظہر حسین نے کہا کہ اس منصوبے سے سفر کی حفاظت میں نمایاں بہتری آئے گی، سفر کا دورانیہ کم ہوگا اور پہاڑی علاقے چترال تک سال بھر رسائی ممکن ہو سکے گی جو شدید موسمی حالات کے باعث اکثر منقطع رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل کے بعد سامان کی نقل و حرکت میں آسانی، سیاحت کو فروغ اور مقامی آبادی کے لئے نقل و حمل کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ مظہر حسین کے مطابق جدید سڑک انفراسٹرکچر بین الاضلاعی تجارت کو سہارا دے گا اور ملاکنڈ و اپر دیر اضلاع میں سماجی و معاشی ترقی کو تقویت ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ تعمیراتی مرحلے کے دوران روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور طویل المدتی طور پر دور دراز علاقوں کو قومی منڈیوں اور خدمات کے ساتھ مؤثر انداز میں جوڑ کر معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔