
اسلام آباد۔8جنوری (اے پی پی):پاکستان میں رفتارِ افزائش (سپیڈ بریڈنگ) کی جدید سہولت کے ذریعے ابتدائی مرحلے کی افزائش کو تیز کرنے کے بعد گندم کی تقریباً 3,000 نئی بریڈنگ لائنز کو فیلڈ جانچ کے مرحلے میں شامل کر دیا گیا ہے۔نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) کے ویٹ پروگرام کے پروگرام لیڈر ڈاکٹر زاہد محمود نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ بریڈنگ لائنز اس سہولت کے 2022 میں آغاز کے بعد تیار کی گئی ہیں اور اس وقت فیلڈ ایویلیوایشن کے عمل سے گزر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بریڈنگ لائنز کنٹرولڈ ماحول میں سپیڈ بریڈنگ تکنیک کے ذریعے تیار کی گئی ہیں جس سے ابتدائی مرحلے میں نئی اقسام کی تیاری کے لئے درکار وقت میں نمایاں کمی ممکن ہوئی ہے۔
ڈاکٹر زاہد محمود نے وضاحت کی کہ روایتی افزائشی طریقوں کے تحت گندم کی ایک نئی قسم تیار کرنے میں 12 سے 15 سال لگتے ہیں کیونکہ کھلے کھیتوں میں آٹھ نسلوں کی تکمیل ضروری ہوتی ہے، کنٹرولڈ ماحول میں ہم صرف دو ماہ میں ایک نسل مکمل کر سکتے ہیں اور سات سے آٹھ سال میں نئی قسم تیار کر لیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت پاکستان کی پہلی اور جنوبی ایشیا کی نوعیت کی پہلی مقصدی گندم سپیڈ بریڈنگ سنٹر ہے۔ خلائی سائنس میں استعمال ہونے والے تصورات سے متاثر یہ مرکز مکمل طور پر کنٹرولڈ ماحول فراہم کرتا ہے جو کھلے کھیتوں میں کئی برسوں پر محیط نسل در نسل افزائش کی ضرورت کو ختم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام حالات میں کھلے کھیتوں میں سات سے آٹھ نسلیں مکمل کرنے میں تقریباً آٹھ سال لگتے ہیں۔،یہاں ہم یہی کام ایک سے ڈیڑھ سال میں کر لیتے ہیں۔ ڈاکٹر زاہد محمود کے مطابق دو سالہ فیلڈ ایویلیوایشن کے بعد بہترین کارکردگی دکھانے والی گندم کی بریڈنگ لائنز کو قومی آزمائشوں میں شامل کیا جائے گا، جو نئی اقسام کی منظوری اور اجراء سے قبل لازمی مرحلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت قابلِ ذکر عملی نتائج حاصل ہو چکے ہیں کیونکہ تقریباً 3,000 گندم بریڈنگ لائنز کی تیاری روایتی طریقوں سے کئی سال میں ممکن ہوتی۔ڈاکٹر زاہد محمود نے بتایا کہ یہ سہولت خطے میں صلاحیت سازی کا ایک مرکز بھی بن چکی ہے۔
خطے میں اسپیڈ بریڈنگ کے علمبردار کے طور پر پاکستان نے ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سے 250 سے 300 سائنسدانوں اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو تربیت فراہم کی ہے،ہمارا تعاون پاکستان تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ قریبی اشتراک کیا گیا اور قازقستان میں پہلی سپیڈ بریڈنگ سہولت کے قیام میں بھی معاونت کی گئی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سپیڈ بریڈنگ ٹیکنالوجی پہلی بار 2018 میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کوئنزلینڈ میں تیار کی گئی تھی جہاں وہ اپنی ڈاکٹریٹ تحقیق کے دوران اس تصور سے متعارف ہوئے۔
بعد ازاں پاکستان نے آسٹریلوی سائنسدانوں کی تکنیکی معاونت سے اس نظام کو مقامی حالات کے مطابق ڈھالا۔ڈاکٹر زاہد محمود کے مطابق اس پروگرام میں مشین لرننگ، مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور ملٹی اسپیکٹرل سینسرز جیسے جدید آلات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ فصلوں کی جانچ کے عمل میں رفتار اور درستگی بہتر بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ جب افزائشی مواد کی جانچ کی جاتی ہے تو ہم تیز اور درست تجزیے کے لئے ڈرونز اور ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان آلات سے جانچ کا وقت کم اور ڈیٹا کا معیار بہتر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ سہولت ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کے لیے تحقیق اور تربیت کا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہے، جس سے پاکستان کی سائنسی اور انسانی وسائل کی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ سپیڈ بریڈنگ سنٹر حکومت کے فنڈ سے چلنے والے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت قائم کیا گیا ہے اور ملک میں گندم کی تحقیق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔