پاکستان نے ادرک کی پانچ جدید افزائشی اقسام تیار کر لیں

Spread the love

اسلام آباد۔11جنوری (اے پی پی):پاکستان نے ادرک کی مقامی کاشت کے قیام کے لیے جاری طویل المدتی تحقیق کے نتیجے میں ادرک کی پانچ جدید افزائشی اقسام تیار کر لی ہیں۔ یہ پیش رفت اس شعبے میں دہائیوں تک ناکام آزمائشوں اور مکمل طور پر درآمدات پر انحصار کے بعد حاصل ہوئی ہے۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ (اے اے آر آئی) فیصل آباد کے سبزیات تحقیقاتی ادارے کے پرنسپل سائنسدان اور ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اقبال نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ نئی تیار کردہ افزائشی اقسام اس وقت مختلف علاقوں میں آزمائشی مراحل سے گزر رہی ہیں اور متعدد مقامات پر حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے لیے مقامی ادرک کی پیداوار کے طویل سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

ڈاکٹر محمد اقبال نے کہا کہ چند سال قبل تک پاکستان میں ادرک کی کاشت نہیں ہوتی تھی اور ملک سو فیصد درآمدات پر انحصار کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل اور طویل المدتی تحقیق کے نتیجے میں اب یہ اعتماد حاصل ہو چکا ہے کہ پاکستان میں ادرک کامیابی سے اگائی جا سکتی ہے۔ان کے مطابق کئی برسوں پر محیط تجربات کے بعد سائنسدانوں نے پوٹھوہار کے خطے کو ادرک کی کاشت کے لیے موزوں قرار دیا ہے۔ راولپنڈی کے قریب فارمز راوت اور چک شہزاد کے نشتر فارمز میں کئے گئے تجربات میں حالیہ فصل نے بہترین پیداوار دی۔ ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ رواں سال کی پیداوار تقریباً تھائی لینڈ کے برابر رہی جبکہ فارمز میں حاصل ہونے والی پیداوار بھارت سے بھی زیادہ تھی۔اگرچہ اس وقت پاکستان عالمی سطح پر ادرک پیدا کرنے والے ممالک میں نچلے درجے پر ہےتاہم منتخب مقامی مقامات پر حاصل ہونے والی پیداوار اس شعبے میں موجود بڑے امکانات کی نشاندہی کرتی ہے۔

ڈاکٹر اقبال کے مطابق مناسب مقامات کی مزید نشاندہی کے بعد پاکستان نہ صرف خودکفالت حاصل کر سکتا ہے بلکہ مستقبل میں برآمدات کی جانب بھی بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس مرحلے تک پہنچنے کا سفر طویل اور مشکل رہا۔ ان کے بقول ادارے نے ماضی میں بھی کئی کوششیں کیں تاہم مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔اہم پیش رفت 2017 کے بعد شروع کی گئی نئی تحقیقی سرگرمیوں سے ممکن ہوئی، جن کے تحت نارووال، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ میں شیڈ اسٹرکچر کے تحت وسیع پیمانے پر تجربات کیے گئے۔ ان آزمائشوں سے پیداوار کی ٹیکنالوجی میں موجود خامیوں کی نشاندہی اور کاشت کے طریقوں میں بہتری ممکن ہوئی۔

ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ آج جو پیش رفت سامنے آ رہی ہے وہ انہی تحقیقی بنیادوں کا نتیجہ ہے۔پانچ جدید افزائشی اقسام کے ساتھ ساتھ اے اے آر آئی نے ادرک کی ایک مقامی قسم ’’اے اے آر آئی جنجر-2023‘‘ بھی تیار کی ہے جو عمومی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ اس کے علاوہ ادارہ چین اور تھائی لینڈ سے حاصل کردہ ادرک کی مختلف اقسام بھی محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ ڈاکٹر اقبال کے مطابق یہ جدید افزائشی اقسام آزاد جموں و کشمیر اور بارہ کے علاقوں میں بھی کامیابی سے آزمائی جا چکی ہیں،معیاری بیج کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اے اے آر آئی نے ٹشو کلچر لیبارٹری قائم کی ہے، جہاں بیماریوں سے پاک ادرک کے پودے تیار کئے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر اقبال نے بتایا کہ مارکیٹ میں دستیاب ادرک عموماً استعمال کے لیے تیار کی جاتی ہے اور اگاؤ کے قابل نہیں ہوتی، اس لیے لیبارٹری میں پودے تیار کر کے تیزی سے افزائش کے لیے فراہم کئے جا رہے ہیں، جن کی بڑی تعداد پہلے ہی تقسیم کی جا چکی ہے۔اس وقت پاکستان میں ادرک کی کاشت محدود پیمانے پر راوت، چک شہزاد، چیچہ وطنی اور جڑانوالہ کے علاقوں میں ہو رہی ہے، جبکہ گزشتہ سال پہلی مرتبہ مقامی طور پر اگائی گئی ادرک ملکی منڈی میں دستیاب ہوئی۔سائنسدان اب ماسٹر ٹرینرز کی تربیت کر رہے ہیں اور ادرک کی پیداوار سے متعلق ٹیکنالوجی کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے عام کیا جا رہا ہے۔

کسانوں میں آگاہی کے لیے ادرک کے میلے بھی منعقد کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کے مطابق ماضی میں ادرک کی کاشت کو ناممکن سمجھا جاتا تھا تاہم اب یہ ایک کامیاب مثال بن چکی ہے۔تحقیقی کامیابی کے بعد حکومت نے پوٹھوہار کے علاقے میں توسیعی منصوبہ شروع کیا ہے، جس کے تحت سرنگوں، شیڈ نیٹس، بیج کی دستیابی اور ڈرِپ آبپاشی کے لیے کسانوں اور حکومت کے درمیان لاگت کی شراکت داری کی بنیاد پر معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے لیے راولپنڈی، جہلم، چکوال، تلہ گنگ، مری اور خوشاب سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں ۔

منصوبے کے تحت اگلے تین برسوں میں مرحلہ وار کاشت کو وسعت دی جائے گی اور منتخب کسان کم از کم دس برس تک ادرک کی کاشت کے پابند ہوں گے تاکہ پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔تازہ استعمال کے علاوہ محققین ادرک کی ویلیو ایڈیشن پر بھی کام کر رہے ہیں، جس میں اچار، خشک ادرک اور پاؤڈر شامل ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کے مطابق پاکستانی ادرک میں جنجرول کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے، جس سے ذائقہ بہتر اور شیلف لائف طویل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ادرک کی کاشت میں ابتدائی سرمایہ کاری زیادہ اور پہلے سال منافع محدود ہوتا ہے، تاہم دوسرے سال سے اس کی منافع بخشی میں نمایاں بہتری آتی ہے۔ کم بیماریوں کے دباؤ اور مضبوط انفراسٹرکچر کے باعث انہوں نے ادرک کو ایک اعلیٰ قدر کی حامل فصل قرار دیا جس میں طویل المدتی امکانات موجود ہیں۔ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ حکومت درآمدات پر اٹھنے والے اخراجات کم کرنے کے لیے خودکفالت بڑھانا چاہتی ہے، اور مقامی پیداوار کے آغاز سے حکومت اور ملک دونوں کو فائدہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button