راولپنڈی ڈویژن میں 14 نئے چھوٹے ڈیمز زیرِ تعمیر

Spread the love

لاہور۔18جنوری (اے پی پی):پنجاب حکومت مون سون کے دوران بارش اور سیلابی پانی کو محفوظ بنانے اور زراعت کے لئے پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے طویل المدتی منصوبے کے تحت راولپنڈی ڈویژن میں 14 نئے چھوٹے ڈیمز تعمیر کر رہی ہے۔پنجاب ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے پوٹھوہار ریجن کے چیف انجینئر محمد نواز بھٹی نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیمز بارانی علاقوں میں پانی کی قلت پر قابو پانے کے لئے 10 سالہ حکمتِ عملی کے تحت تعمیر کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ راولپنڈی ڈویژن میں اس وقت 10 سالہ منصوبے کے تحت 14 ڈیمز پر کام جاری ہے۔ان کے مطابق ڈیمز کی تعمیر مختلف مراحل میں ہے اور منظور شدہ ٹائم لائن کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ نیا انفراسٹرکچر مزید بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنانے میں مدد دے گا جس سے زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ میں بہتری آئے گی،زیرِ تعمیر ڈیمز میں پاپن ڈیم، کھوری ڈیم، سورہ ڈیم، احمد دل ڈیم اور کھور ڈیم سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں۔پنجاب ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق پوٹھوہار ریجن میں اب تک 57 چھوٹے ڈیمز مکمل کئے جا چکے ہیں، جو چکوال، راولپنڈی، اٹک اور جہلم اضلاع میں واقع ہیں۔

یہ ڈیمز اس وقت تقریباً 66,804 ایکڑ بارانی زمین کو آبپاشی کا پانی فراہم کر رہے ہیں۔ جاری منصوبوں کی تکمیل کے بعد آبپاشی کا دائرہ مزید بڑھ کر تقریباً 69,800 ایکڑ تک پہنچنے کی توقع ہے۔راولپنڈی ڈویژن کے علاوہ پنجاب حکومت ڈی جی خان ڈویژن میں بھی چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کی منصوبہ بندی کر رہی ہے تاکہ سلیمان رینج سے آنے والے پہاڑی نالوں کے پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے۔ یہ نالے اکثر فصلوں اور آبادیوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں تاہم ڈی جی خان کے علاقے میں چھوٹے ڈیمز کے لئے خصوصی ڈیزائن اور مضبوط ڈھانچوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ پہاڑی نالوں سے آنے والے شدید سیلابی ریلوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

علاوہ ازیں صوبائی حکومت نے شمالی پنجاب میں مائیکرو اور منی ڈیمز کی تعمیر کا ایک الگ پروگرام بھی شروع کیا ہے جس کی نگرانی ایجنسی فار بارانی ایریاز ڈویلپمنٹ (اے بی اے ڈی) اور محکمہ زراعت پنجاب کے فارم مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ کر رہے ہیں۔فارم واٹر مینجمنٹ کے ڈائریکٹر عامر مشتاق کے مطابق حکومت مرحلہ وار پوٹھوہار ریجن میں سینکڑوں نئے منی ڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ زراعت کو سہارا دیا جا سکے اور پانی کی دستیابی بہتر ہو۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ تین برسوں میں راولپنڈی ڈویژن میں مجموعی طور پر 400 منی ڈیمز تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے۔ ان کے مطابق ایسے ڈھانچے نیم خشک اور پہاڑی علاقوں کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں جہاں بڑے ڈیمز کی تعمیر ممکن نہیں ہوتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت کسانوں کو کھیتوں میں پانی ذخیرہ کرنے کے لئے مالی معاونت فراہم کر رہی ہے جس کے تحت نجی زرعی اراضی پر منی ڈیمز کی تعمیر کے لئے 70 فیصد سبسڈی دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاونت کا مقصد آبپاشی تک رسائی بہتر بنانا، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانا اور پائیدار زراعت کو فروغ دینا ہے۔ماہرینِ آبی وسائل کے مطابق چھوٹے اور منی ڈیمز کو دنیا بھر خاص طور پر خشک اور نیم خشک علاقوں میں بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کا مؤثر ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے ڈائریکٹر واٹر ریسورسز سہیل علی نقوی نے کہا کہ چھوٹے اور منی ڈیمز جنہیں بعض اوقات چیک ڈیمز/ پرکولیشن ٹینکس بھی کہا جاتا ہے، جنوبی ایشیا کے اُن علاقوں میں وسیع پیمانے پر استعمال ہو رہے ہیں جو مون سون کی بارشوں پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوٹھوہار ریجن کی اُبھری ہوئی زمین، موسمی نالوں کی موجودگی اور مون سون بارشوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باعث یہ علاقہ چھوٹے ڈیمز کے لئے انتہائی موزوں ہے اور یہ ڈھانچے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لئے کم لاگت اور مؤثر حل فراہم کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button