
لاہور ۔18جنوری (اے پی پی):پاکستان ریلوے نے اپنی مسافر بوگیوں میں پرانے ایئر کنڈیشننگ یونٹس کی تبدیلی کے لیے ایک جامع پروگرام کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد سفر کے دوران آرام بحال کرنا اور مجموعی سفری معیار کو بہتر بنانا ہے۔ویلتھ پاکستان کے پاس دستیاب دستاویز کے مطابق اس وقت 231 ایئر کنڈیشنڈ بوگیاں آپریشن میں ہیں جبکہ اے سی بوگیوں کی طلب 208 ہے۔ اس منصوبے کے تحت مجموعی طور پر 153 بوگیوں میں اے سی یونٹس کی تبدیلی کی جا رہی ہے جن میں سے اب تک 85 یونٹس تبدیل کیے جا چکے ہیں۔
مارچ 2026 تک مزید 68 اے سی یونٹس کی تبدیلی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو آرام دہ سفر کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔علاوہ ازیں پاکستان ریلوے مسافر ٹرینوں کی آپریشنل کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اُن پاور وینز کی بحالی پر بھی کام کر رہا ہے جو اس وقت مرمت کے مراحل میں ہیں۔ویلتھ پاکستان کے مطابق پاکستان ریلوے کے پاس مجموعی طور پر 86 پاور وینز ہیں، جو روشنی، ایئر کنڈیشننگ اور دیگر مسافر سہولیات کے لیے بجلی فراہم کرتی ہیں۔ ان میں سے 54 پاور وینز اس وقت آپریشن کے لیے دستیاب ہیں اور نیٹ ورک میں مسافر ٹرینوں کی آمدورفت میں معاون ہیں۔
ہموار آپریشن کے لیے ریلوے نظام کو 70 پاور وینز درکار ہیں، جن میں دیکھ بھال کی منصوبہ بندی اور قابلِ اعتماد آپریشن کے لیے اضافی گنجائش بھی شامل ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 16 پاور وینز اس وقت ورکشاپس میں مرمت کے عمل سے گزر رہی ہیں، جو اثاثہ جات کی بحالی اور فلیٹ کی دستیابی بڑھانے کی جاری کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔پاکستان ریلوے کے ایک عہدیدار نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ورکشاپس میں موجود پاور وینز کی مرحلہ وار دیکھ بھال اور اوورہالنگ کی جا رہی ہے، جس سے آپریشن کے لیے دستیاب یونٹس کی تعداد بتدریج بڑھنے کی توقع ہے۔
بحالی کے بعد یہ پاور وینز مجموعی ضروریات اور عملی دستیابی کے درمیان فرق کم کرنے میں مدد دیں گی۔انہوں نے کہا کہ مسلسل دیکھ بھال پر توجہ پاکستان ریلوے کے مسافروں کے آرام اور آپریشنل استحکام کو بہتر بنانے کے عزم کی عکاس ہے، خصوصاً طویل فاصلے اور ایئر کنڈیشنڈ سروسز کے لیے جو قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی پر انحصار کرتی ہیں۔