
لاہور۔31 مارچ (اے بی سی):پنجاب میں زرعی سائنسدان تیزی سے بڑھتی ہوئی پاستا انڈسٹری کی طلب کو پورا کرنے کے لئے ڈورم گندم کی نئی اقسام کی تیاری اور فروغ پر کام کر رہے ہیں۔پنجاب ایگریکلچر ریسرچ بورڈ (PARB) نے ویٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (WRI) فیصل آباد کو ڈورم گندم کی اقسام تیار کرنے اور انہیں مقبول بنانے کا ہدف سونپا ہے۔ڈبلیو آر آئی کے چیف سائنسدان ڈاکٹر جاوید احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ہم نے عام گندم کے ساتھ ساتھ ڈورم گندم کی کئی اقسام تیار کی ہیں، زیادہ پروٹین اور گلوٹن مواد کی وجہ سے پاکستان میں ڈورم گندم بنیادی طور پر اعلیٰ معیار کے آٹے اور سوجی کی تیاری کے لئے استعمال ہوتی ہے جو نوڈلز، میکرونی، سپگیٹی اور سویاں جیسے پاستا مصنوعات میں استعمال ہوتے ہیں۔ڈاکٹر جاوید احمد نے بتایا کہ 1960 کی دہائی سے پہلے ڈورم گندم پنجاب کی کاشت کا حصہ رہی ہے،یہ اس وقت کاشت کی جانے والی تقریباً 25 گندم کی اقسام میں شامل تھی، جب گرین ریولوشن کے دوران میکسیک پاک جیسی زیادہ پیداوار دینے والی اقسام متعارف کرائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈبلیو آر آئی فیصل آباد کی تیار کردہ پہلی ڈورم گندم کی قسم ودانک-85 تھی، جس کے بعد ڈورم-97 متعارف کرائی گئی۔ تازہ ترین قسم ڈورم-21 کو حال ہی میں پنجاب سیڈ کونسل نے کمرشل کاشت کے لئے منظور کیا ہے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف ایگریکلچر فیصل آباد نے چناب پاستا-24 کے نام سے ایک نئی قسم متعارف کرائی ہے جو خاص طور پر پاستا انڈسٹری کے لئے تیار کی گئی ہے۔ یہ قسم نہری اور بارانی دونوں علاقوں میں کاشت کی جا سکتی ہے جس سے یہ مختلف موسمی علاقوں کے لئے موزوں ہے۔ڈاکٹر جاوید احمد نے وضاحت کی کہ اگرچہ ماضی میں پاستا اور اس سے متعلقہ مصنوعات کے لئے عام گندم استعمال ہوتی رہی ہے تاہم بہتر معیار کے باعث اب ڈورم گندم بتدریج اس کی جگہ لے رہی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع ملتان میں ایک نجی صنعتی گروپ نے ڈورم گندم پیسنے کا پلانٹ قائم کیا ہے اور مقامی کاشتکاروں سے یہ فصل زیادہ قیمت پر خرید رہا ہے تاہم پنجاب میں ڈورم گندم کی کاشت اب بھی محدود ہے کیونکہ اس کے لئے مخصوص پراسیسنگ انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ڈاکٹر جاوید احمد نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی کامیابی صوبے بھر میں مزید ملنگ یونٹس کے قیام سے مشروط ہے۔فلور ملرز کے مطابق ڈورم گندم کے فروغ کے لئے خصوصی ملنگ سہولیات کی ضرورت ہے۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین عاصم رضا احمد نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ہمیں ڈورم گندم کو پراسیس کرنے کے لئے موجودہ ملنگ طریقہ کار میں تبدیلی لانا ہوگی، اس وقت پنجاب میں ایک بھی مل ایسی نہیں جو اسے پراسیس کر رہی ہو۔انہوں نے کہا کہ سویاں، نوڈلز، پاستا اور سپگیٹی بنانے والے زیادہ تر کارخانے اب بھی عام گندم سے حاصل کردہ میدہ اور سوجی استعمال کر رہے ہیں۔کاشتکار بھی مارکیٹنگ کے مسائل کو ڈورم گندم کی محدود کاشت کی بڑی وجہ قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کسان اتحاد کے چیئرمین خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ ملتان کے صنعتی گروپ کے علاوہ زیادہ تر فلور ملز ڈورم گندم نہیں خریدتیں کیونکہ اس کا آٹا روایتی روٹی بنانے کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈورم گندم پر مبنی صنعتوں کا دائرہ کار بڑھانا ضروری ہے تاکہ اس فصل کو دوبارہ فروغ دیا جا سکے جو تقریباً 60 سال پہلے پنجاب میں بڑے پیمانے پر کاشت کی جاتی تھی۔