پاکستان میں چنے کی 400 جدید بریڈنگ لائنز تیار

Spread the love

اسلام آباد۔6جنوری (اے پی پی):پاکستان میں نئی قائم کردہ سپیڈ بریڈنگ فیسلٹی کے تحت چنے کی 400 جدید بریڈنگ لائنز تیار کر لی گئی ہیں جن کا مقصد موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ہم آہنگ اور زیادہ پیداوار دینے والی دالوں کی اقسام کی تیاری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر میں پلسز ریسرچ پروگرام کے سربراہ ڈاکٹر شاہد ریاض ملک نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ جدید بریڈنگ لائنز کنٹرولڈ ماحول میں سپیڈ بریڈنگ تکنیک کے ذریعے تیار کی گئی ہیں اور اب انہیں فیلڈ ٹیسٹنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ نئی سہولت کے ذریعے دالوں کی نئی اقسام تیار کرنے کے دورانیے میں تقریباً نصف کمی ممکن ہو گئی ہے۔

روایتی طور پر کسی نئی دال کی قسم تیار کرنے میں 12 سے 15 سال لگتے ہیں، تاہم سپیڈ بریڈنگ کے ذریعے اب ہم سات سے آٹھ سال میں نئی قسم متعارف کرا سکتے ہیں، جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا یہ فیسلٹی چنے، مسور، مونگ، ماش اور دیگر دالوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جو غذائی تحفظ اور کسانوں کی آمدنی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

درجہ حرارت، نمی اور روشنی کو مکمل طور پر کنٹرول کر کے سائنس دان اب سال میں ایک بار کے بجائے ہر دو ماہ بعد دالوں کی فصل حاصل کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر شاہد نے وضاحت کی کہ کھلے کھیتوں میں چنے کی فصل کو تقریباً چھ ماہ لگتے ہیں اور سال میں صرف ایک بار کاشت ممکن ہوتی ہےجبکہ سپیڈ بریڈنگ چیمبرز میں سالانہ پانچ سے چھ نسلیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سپیڈ بریڈنگ طریقہ کار کے ذریعے پودوں میں خشک سالی برداشت کرنے، شدید گرمی اور بیماریوں کے خلاف مزاحمت جیسی خصوصیات کی تیزی سے جانچ ممکن ہو گئی ہے،

جو موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں نہایت اہم ہیں۔ منتخب لائنز کو ہائبرڈائزیشن کے ذریعے آگے بڑھایا جاتا ہے اور بعد ازاں فیلڈ ٹرائلز کے مرحلے میں داخل کیا جاتا ہے۔یہ فیسلٹی دالوں کے لیے پاکستان کا پہلا مخصوص اسپیڈ بریڈنگ مرکز ہے اور جنوبی ایشیا میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مرکز بھی ہے۔ ڈاکٹر شاہد کے مطابق دیگر ممالک میں موجود ایسی سہولتیں عموماً مختلف فصلوں پر کام کرتی ہیں، جبکہ یہ مرکز صرف دالوں پر مرکوز ہے۔انہوں نے بتایا کہ چنے پر تحقیق تقریباً مکمل ہو چکی ہے جبکہ مسور پر کام 70 سے 75 فیصد تک مکمل ہو گیا ہے۔ مونگ اور ماش کے لیے بریڈنگ پروٹوکولز کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے،

کیونکہ ان فصلوں پر عالمی سطح پر تحقیق محدود ہے۔فیلڈ ٹیسٹنگ، قومی پیداوار کے آزمائشی مراحل اور سیڈ کونسلز کی منظوری کے بعد نئی تیار شدہ دالوں کی اقسام آئندہ چند برسوں میں کسانوں کو فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس پروگرام کو مونگ پھلی، باجرہ اور دیگر فصلوں تک بھی وسعت دی گئی ہے، جو کثیرفصلی تحقیقی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ استعداد سازی بھی پروگرام کا اہم جزو ہے، جس کے تحت ملک بھر کے زرعی تحقیقی نظام سے وابستہ سائنس دانوں کو سپیڈ بریڈنگ کی تربیت دی جا رہی ہے،

جبکہ جامعات کے طلبہ بھی جدید تحقیق میں شامل ہیں۔ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ اس منصوبے کو بین الاقوامی تعاون سے بھی فائدہ حاصل ہو رہا ہے، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں کے تحت آسٹریلیا اور چین کے ساتھ اشتراک سے پاکستانی سائنس دانوں کی جدید بریڈنگ ٹیکنالوجیز میں مہارت میں اضافہ ہوا ہے۔یہ فیسلٹی حکومتِ پاکستان کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت قائم کی گئی اور ایل ای ڈی گرو لائٹس کی تنصیب کے بعد 2025 میں مکمل طور پر فعال ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مکمل فعالیت کے ایک سال کے اندر ٹیم نے نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button