زیڈ ٹی بی ایل نے زیتون کے درختوں کے نیچے کم لاگت ادرک کاشت کا ماڈل متعارف کرا دیا

Spread the love

اسلام آباد۔21جنوری (اے پی پی):پاکستان میں ادرک کی مقامی پیداوار کے فروغ کی کوششوں میں ایک اور پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں زرعی ترقیاتی بینک لمیٹڈ (زیڈ ٹی بی ایل) نے کم لاگت پر ادرک کی کاشت کا ایک عملی ماڈل پیش کیا ہے، جس میں مہنگی شیڈ نیٹ ٹنلز اور ڈرِپ آبپاشی کے بجائے زیتون کے درختوں کا قدرتی سایہ اور سادہ کھالوں کے ذریعے آبپاشی استعمال کی گئی ہے۔زیڈ ٹی بی ایل کے اسسٹنٹ وائس پریزیڈنٹ اور سبجیکٹ سپیشلسٹ (ہارٹیکلچر) محمد کاشف نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آباد کے مارگلہ ٹاؤن میں واقع بینک کے فارم پر کیے گئے اس مظاہرے سے ثابت ہوا ہے کہ ادرک کھلے کھیتوں میں زیتون کے درختوں کے قدرتی سائے تلے کامیابی سے کاشت کی جا سکتی ہے۔

اس طریقے سے کاشتکار ایک ہی زمین سے دو فصلیں حاصل کر سکتے ہیں اور پیداواری لاگت میں نمایاں کمی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ ادرک ایک قیمتی فصل ہے اور زیڈ ٹی بی ایل اسے کسانوں میں ایک کم خرچ اور قابلِ عمل ماڈل کے ذریعے متعارف کرانا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں ادرک کی کاشت کے لیے نیٹ شیڈ ٹنلز استعمال کیے جاتے تھے، جبکہ یہ نیا ماڈل کھلے کھیتوں میں زیتون کے سائے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔اس آزمائشی منصوبے کے تحت تقریباً 700 ادرک کے پودے لگائے گئے تھے جن کی گزشتہ ہفتے کامیاب کٹائی کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اس وقت ادرک کی تمام ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں، جن پر سالانہ تقریباً 60 ملین ڈالر خرچ ہوتے ہیں، جبکہ ملک میں بڑے پیمانے پر ادرک کی مقامی کاشت تاحال محدود ہے۔

محمد کاشف نے کسانوں میں آگاہی کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیڈ ٹی بی ایل کی یہ کاوش ترقی پسند کاشتکاروں امیر شہزاد اور قاسم نشتار کی رہنمائی اور ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی مشاورتی معاونت سے ممکن ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ یہ ماڈل پوٹھوہار وادی کے لیے خاص طور پر موزوں ہے، جہاں زیتون کے باغات بڑی تعداد میں موجود ہیں چونکہ ادرک سایہ پسند فصل ہے، اس لیے اسے ہمہ وقت سرسبز رہنے والے زیتون کے درختوں کے نیچے کاشت کیا جاتا ہے، جس سے کسان ایک ہی کھیت سے زیتون اور ادرک دونوں کی پیداوار حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طریقے سے سال میں صرف ایک بار زیتون کی کٹائی کے باعث پیدا ہونے والے آمدن کے خلا کا مسئلہ بھی حل ہوتا ہے۔ڈرِپ آبپاشی کے بجائے اس تجربے میں کھالوں کے ذریعے آبپاشی کی گئی، جس سے زمین میں نمی برقرار رہی اور پانی کھڑا ہونے سے بچاؤ ممکن ہوا۔

اضافی بارش کے پانی کے اخراج کے لیے نکاسی آب کے راستے بنائے گئے تاکہ فنگس جیسی بیماریوں کے خطرات کم کیے جا سکیں۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے میں استعمال کی گئی ادرک تھائی قسم کی ہے اور اس تجربے کو کامیاب قرار دیتے ہوئے انہوں نے پوٹھوہار کے زیتون کے کاشتکاروں پر زور دیا کہ وہ زمین کے بہتر استعمال اور زیادہ منافع کے لیے اس ماڈل کو اپنائیں۔زیڈ ٹی بی ایل ادرک کی کاشت کے فروغ کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔ محمد کاشف نے کہا کہ بینک اس مقصد کے لیے فزیبلٹی سٹڈی تیار کرے گا اور ادرک کو قابلِ قرض فصل قرار دینے کی سمت کام کرے گا تاکہ کسانوں کو قرضوں تک رسائی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ بینک کا بنیادی مقصد مالی معاونت کے ذریعے کسانوں تک جدید زرعی ٹیکنالوجی پہنچانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ماڈل میں ٹنلز کی ضرورت نہ ہونے اور ڈرِپ آبپاشی سے اجتناب کے باعث لاگت میں نمایاں کمی آتی ہے، کیونکہ زیتون کے درخت پورا سال سایہ فراہم کرتے ہیں۔ادرک مئی میں کاشت کی جاتی ہے اور تقریباً ایک سال بعد اس کی برداشت ہوتی ہے، جبکہ پودے پورے دورانیے میں صحت مند رہتے ہیں۔ ادرک قدرتی طور پر کیڑوں کے خلاف مزاحمت رکھتی ہے، جس کے باعث اخراجات کم رہتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر نامیاتی طریقے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پوٹھوہار میں زمین اور پانی کی محدود دستیابی کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ ادرک کم پانی میں اچھی پیداوار دیتی ہے اور چھوٹے رقبے سے زیادہ منافع فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق کم زمین اور پانی رکھنے والے کسان روایتی فصلوں کے مقابلے میں کم رقبے پر ادرک کاشت کر کے زیادہ آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button