
کراچی۔22جنوری (اے پی پی):سندھ حکومت صوبے بھر میں مخصوص فلوری کلچر فارمز قائم کرنے کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد زراعت میں تنوع لانا اور کاشتکاروں کے لئے آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔یہ اقدام محکمہ زراعت توسیع سندھ کی قیادت میں دیگر صوبائی سٹیک ہولڈرز کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے جس کا ہدف فلوری کلچر کو زراعت کے ایک اعلیٰ قدر اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں شعبے کے طور پر فروغ دینا ہے۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع سندھ غلام مصطفیٰ نانگراج نے کہا کہ صوبے میں موسمیاتی تنوع، زرخیز زمین اور زرعی صلاحیت موجود ہے جو فلوری کلچر کو ایک قابلِ عمل معاشی شعبہ بنانے کے لئے ضروری عناصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے پاس فلوری کلچر کو ایک فروغ پانے والی صنعت میں تبدیل کرنے کے تمام اجزا موجود ہیں، یہ مخصوص فلوری کلچر فارمز تربیت، جدت اور تجارتی پیداوار کے لئے مراکزِ امتیاز کے طور پر کام کریں گےاور محکمے کے زیادہ متنوع زرعی پورٹ فولیو کے وژن کی وضاحت کی۔منصوبے کے تحت اہم زرعی علاقوں کے قریب فلوری کلچر فارمز کے کلسٹر قائم کئے جائیں گے جن میں میرپورخاص، ٹنڈو الہٰ یار، بدین اور ٹھٹھہ شامل ہیں،یہ اضلاع پہلے ہی باغبانی کی پیداوار کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔
مجوزہ فارمز میں کٹ فلاورز، گملوں میں لگائے جانے والے آرائشی پودے، نرسری پودے اور ویلیو ایڈڈ پھولوں کی مصنوعات جیسے خشک پھول اور ضروری تیل شامل ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ پیداوار، معیار اور مارکیٹ میں رسائی بہتر بنانے کے لئے جدید طریقے متعارف کرائے جائیں گے جن میں گرین ہاؤس کاشت، ڈرِپ آبپاشی اور بعد از برداشت ہینڈلنگ کی سہولیات شامل ہیں۔غلام مصطفیٰ نانگراج نے کہا کہ فلوری کلچر صرف پھولوں تک محدود نہیں بلکہ معاشی خودمختاری کا ذریعہ ہے، اس اقدام کا مقصد کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ، پانی کی زیادہ کھپت والی فصلوں پر انحصار میں کمی اور مقامی و بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کو ممکن بنانا ہے، یہ فارمز جدت، تربیت اور تجارتی سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ فلوری کلچر کی جانب سندھ کا یہ قدم قومی سطح کے وسیع تر رجحانات سے ہم آہنگ ہے جہاں کاشتکار اور پالیسی ساز روایتی، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں کے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق فلوری کلچر خصوصاً شہری اور برآمدی منڈیوں کے لئے اعلیٰ قدر کے پھولوں اور آرائشی پودوں کے معاملے میں نسبتاً کم پانی کے استعمال کے ساتھ فی ایکڑ بہتر منافع دے سکتا ہے ۔محکمہ چھوٹے کاشتکاروں کی صلاحیت سازی پر بھی خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ توسیعی خدمات کو وسعت دی جائے گی تاکہ فلوری کلچر کی تکنیکوں، کیڑوں کے تدارک، گرین ہاؤس آپریشنز اور مارکیٹ روابط پر تربیت فراہم کی جا سکے۔ کاشتکاروں کو تصدیق شدہ پودا جاتی مواد، زرعی ان پٹس اور نمائشی پلاٹس تک رسائی دی جائے گی تاکہ روایتی طریقوں اور جدید باغبانی کے درمیان خلا کم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس منصوبے کو کاشتکاروں کی ضروریات کو مرکز میں رکھ کر تیار کر رہے ہیں۔
نرسری مینجمنٹ سے لے کر پھولوں کی پیکجنگ تک، کاشتکاروں کو وہ مہارتیں اور بنیادی ڈھانچہ فراہم کیا جائے گا جو انہیں مؤثر طور پر مقابلہ کرنے کے قابل بنائے۔ فلوری کلچر کاشت، پروسیسنگ اور مارکیٹنگ میں بالخصوص خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔کھیت کی سطح پر فوائد کے علاوہ انہوں نے کہا کہ مجوزہ فلوری کلچر فارمز تحقیقی اداروں، جامعات اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون کے ذریعے سندھ کے ایگری بزنس ایکو سسٹم کو مضبوط کریں گے۔ معیار برقرار رکھنے اور مقامی و برآمدی منڈیوں میں بہتر قیمتیں حاصل کرنے کے لئے کولڈ سٹوریج اور ویلیو ایڈیشن کی سہولیات بھی منصوبے کا حصہ ہوں گی۔