
اسلام آباد۔22جنوری (اے پی پی):پاکستانی سائنسدان فصلوں کے ایسے بیجوں کی جانچ کر رہے ہیں جنہیں خلا ء میں کاسمک ریڈی ایشن اور زیرو گریویٹی کے ماحول میں رکھا گیا تھا تاکہ جینیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جا سکے اور فصلوں کی تنوع میں اضافہ کیا جا سکے۔نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) میں گندم پروگرام کے پروگرام لیڈر ڈاکٹر زاہد محمود نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ یہ اقدام روایتی پودوں کی افزائش کو خلائی تجربات کے ساتھ یکجا کرتا ہے اور اس کا مقصد مصنوعی تبدیلیوں (انڈیوسڈ میوٹیشنز) کے ذریعے فصلوں کی لائنز میں نئی جینیاتی تبدیلیاں متعارف کرانا ہے تاکہ مستقبل میں بہتری لائی جا سکے۔ڈاکٹر زاہد محمود کے مطابق یہ بیج ایک مشن کے تحت خلا میں بھیجے گئے جس کی نگرانی پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیر ریسرچ کمیشن نے چین کے تعاون سے کی۔
انہوں نے بتایا کہ اس کھیپ میں گندم، چاول اور مکئی کے بیج شامل تھے جنہیں مشن کے دوران کاسمک ریڈی ایشن اور مائیکرو گریویٹی کے حالات میں رکھا گیا۔ واپسی کے بعد اس مواد کو ابتدائی طور پر کراچی میں ہینڈل کیا گیا اور پھر مزید جانچ کے لئے محققین کے حوالے کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ میوٹیشن بریڈنگ میں عموماً کنٹرولڈ حالات میں ریڈی ایشن یا کیمیائی عوامل کے ذریعے ڈی این اے میں اچانک تبدیلیاں پیدا کی جاتی ہیں اور خلائی ماحول کو بھی ایک اضافی ذریعہ تبدیلی کے طور پر جانچا جا رہا ہے کیونکہ کاسمک ریڈی ایشن اور زیرو گریویٹی جینیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ڈاکٹر زاہد محمود نے کہا کہ چونکہ کھلے کھیتوں میں عام طور پر سال میں فصل کی صرف ایک نسل کی جانچ ممکن ہوتی ہے، اس لئے واپس آنے والے بیجوں کو پہلے نارک کی سپیڈ بریڈنگ فیسلٹی میں کنٹرولڈ حالات کے تحت آگے بڑھایا گیا تاکہ نسلوں کی تبدیلی کا عمل تیز کیا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ گندم کے مواد کی ابتدائی جانچ میں کچھ فرق سامنے آیا ہے اور اب اس مواد کو مزید جانچ کے لئے کھیتوں میں کاشت کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حتمی نتائج کے اندراج کے لئے تقریباً ایک سال پر مشتمل مکمل فصل چکر درکار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے اور اس کے نتائج فصل کی قسم، علاج اور خلائی ماحول میں قیام کے دورانیے پر منحصر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تمام جینیاتی تبدیلیاں فائدہ مند نہیں ہوتیں، اس لئے کسی بھی مواد کو آگے بڑھانے سے پہلے وسیع پیمانے پر انتخاب ضروری ہوتا ہے۔ان کے مطابق انتخاب کے عمل کے دوران پودے کی اونچائی، بیماریوں کے خلاف مزاحمت، دانے کا سائز، رنگ اور پیداوار جیسی خصوصیات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر زاہد محمود نے مزید بتایا کہ میوٹیشن اور سپیڈ بریڈنگ کے ساتھ ساتھ جدید جانچ کے اوزار بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جن میں ملٹی سپیکٹرل سینسرز سے لیس ڈرونز شامل ہیں جو ہائی تھروپٹ فینوٹائپنگ کے ذریعے بڑے افزائشی پلاٹس میں پودوں کی خصوصیات کا تیزی سے جائزہ لینے میں مدد دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ اوزار کم وقت میں بڑی مقدار میں ڈیٹا تیار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے محققین کو ابتدائی مرحلے پر امید افزا مواد کی نشاندہی اور فصلوں کی تحقیق کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔
ڈاکٹر زاہد محمود کے مطابق ان آزمائشوں سے حاصل ہونے والے نتائج مستقبل کے خلائی مشنز کی رہنمائی کریں گے جن کی منصوبہ بندی زیادہ قریبی ہم آہنگی کے ساتھ کی جائے گی تاکہ موزوں فصلاتی مواد کے انتخاب اور جانچ کو یقینی بنایا جا سکے۔