
اسلام آباد۔3جنوری (اے پی پی):نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے نیشنل ہائی وے (این-45) پر واقع لواری ٹنل–چکدرہ سیکشن کی اپ گریڈیشن اور مرمتی کام کا بڑا حصہ مکمل کر لیا ہے۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق این ایچ اے لواری ٹنل کے چکدرہ حصے پر دورانیہ جاتی مرمت اور بہتری کے کام انجام دے رہی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل 2026 کے اوائل تک متوقع ہے۔ مذکورہ سیکشن طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا جس کے باعث این ایچ اے کی فوری توجہ درکار تھی۔مرمتی کام کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
پہلے حصے میں 140 سے 155 کلومیٹر جبکہ دوسرے حصے میں 155 سے 193 کلومیٹر تک کا علاقہ شامل ہے جس پر مجموعی طور پر 1 ارب 44 کروڑ روپے لاگت آ رہی ہے۔ دستاویز کے مطابق پہلے حصے پر 38 فیصد جبکہ دوسرے حصے پر 78 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔یہ سرنگ خیبرپختونخوا اور چترال کے درمیان بلا تعطل رابطے کا اہم ذریعہ ہے اور مسافروں، تجارتی سرگرمیوں اور سیاحت کے لیے نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ گزشتہ سالوں کے دوران شدید ٹریفک، سخت موسمی حالات اور قدرتی عوامل کے باعث سڑک کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث بر وقت مرمت ناگزیر ہو گئی تھی۔جاری کاموں میں سڑک کی ازسرِنو تعمیر، سفالٹ بچھانا، نکاسی آب کے نظام میں بہتری، ڈھلوانوں کا تحفظ اور متاثرہ ڈھانچوں کی مرمت شامل ہے۔
این ایچ اے کے ایک سینئر افسر نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ان اقدامات کا مقصد سفر کو محفوظ بنانا، آمدورفت میں آسانی پیدا کرنا اور خاص طور پر خراب موسم میں ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ این ایچ اے منصوبے کے معیار اور بروقت تکمیل کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور عملدرآمد کے دوران درپیش تکنیکی مسائل کے حل کے لیے ٹھیکیداروں سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔افسر کے مطابق بہتر سڑک کی بدولت چترال تک زرعی اجناس، اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں آسانی ہوگی، جبکہ سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ این ایچ اے ملک بھر میں قومی شاہراہوں اور موٹرویز کی بہتری کے لیے پرعزم ہے اور علاقائی روابط، معاشی ترقی اور عوامی تحفظ کے فروغ کے لیے ایسے منصوبے جاری رہیں گے۔