پاکستان کے آرکائیول ورثے کی جدید کاری کیلئے 580 ملین روپے کے منصوبے تجویز

Spread the love

اسلام آباد۔7 اپریل (اے بی سی):ملک کے دستاویزی ورثے کے تحفظ اور انتظام کو مضبوط بنانے کے مقصد کے تحت پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام 2026-27 کے تحت نیشنل آرکائیوز آف پاکستان (این اے پی) کے لئے 580 ملین روپے کے دو منصوبے تجویز کئے گئے ہیں۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق ان منصوبوں میں 285 ملین روپے کا قومی پروگرام شامل ہے جو آرکائیول ورثے کی ڈیجیٹائزیشن اور بحالی کے لئے ہے جبکہ 295 ملین روپے کا منصوبہ این اے پی کے فیز-II کے تحت ادارے کی بحالی اور اپ گریڈیشن کے لئے تجویز کیا گیا ہے۔285 ملین روپے کے ڈیجیٹائزیشن اور بحالی پروگرام میں سے 2026-27 کے لئے 200 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد قیمتی تاریخی ریکارڈ کو محفوظ بنانا ہے خاص طور پر ایسے آرکائیول مواد پر توجہ دے کر جو جسمانی خرابی اور ضائع ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ دستاویزات کے مطابق اس اقدام کے تحت جدید ڈیجیٹائزیشن اور بحالی کی تکنیکوں کے ذریعے ایسے ریکارڈ کو محفوظ اور پائیدار شکل میں منتقل کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس اقدام سے محققین، سکالرز اور اداروں کے لئے آرکائیوز تک رسائی بھی بہتر ہونے کی توقع ہے کیونکہ ریکارڈ کو تلاش، منظم اور طویل مدت تک محفوظ رکھنا آسان ہو جائے گا۔

دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہے کہ یہ پروگرام بہتر آرکائیول مینجمنٹ طریقہ کار، بین الاقوامی معیار کو اپنانے اور پاکستان کے دستاویزی ورثے کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے ذریعے ادارہ جاتی صلاحیت کو بھی مضبوط بنائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت نے این اے پی کے فیز-II کے تحت 295 ملین روپے کا انفراسٹرکچر منصوبہ بھی تجویز کیا ہے جس کا مقصد آرکائیول سہولیات کی بحالی، اپ گریڈیشن اور تعمیراتی کام کے ذریعے ان کی فعالیت، حفاظت اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔یہ منصوبہ موجودہ انفراسٹرکچر کو جدید معیار کے مطابق بحال اور اپ گریڈ کرے گا جبکہ مستقبل کی ادارہ جاتی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی سہولیات بھی قائم کی جائیں گی۔ اس سے سروس ڈیلیوری، پائیداری اور مجموعی کارکردگی میں بہتری متوقع ہے جس کے نتیجے میں نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی اہم قومی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے اور ان کا مؤثر انتظام کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔مجموعی طور پر یہ دونوں منصوبے پاکستان کے آرکائیول نظام کو جدید بنانے کی ایک وسیع کوشش کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ڈیجیٹل تحفظ اور فزیکل انفراسٹرکچر کی ترقی کو یکجا کیا گیا ہے۔ منظوری کی صورت میں یہ منصوبے ملک بھر میں تاریخی اہمیت کے حامل ریکارڈ کے تحفظ، رسائی اور طویل مدتی انتظام کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button